دہلی ہائی کورٹ نے عدالت میں ’جھوٹا‘ بیان دینے پر 6 سی بی آئی افسران کے خلاف مجرمانہ کارروائی کا دیا حکم
ہائی کورٹ نے راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج کو سشیل دیوان، ونیت ونایک، امیت کمار، رمن تیاگی، پریم کمار گوتم اور محمد آزاد کے خلاف تحریری شکایت درج کرنے کی ہدایت دی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے 6 سی بی آئی افسران کے خلاف مجرمانہ کارروائی شروع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ان افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں ایک آئی آر ایس افسر کی برطرفی کو چیلنج کرنے کے مجوزہ معاملے میں انتظامی وزارت کے ساتھ خط و کتابت کے حوالے سے عدالت کے سامنے قصداً جھوٹا بیان دیا تھا۔ جسٹس مدھو جین کی یک رکنی بنچ نے انڈین ریونیو سروس (آئی آر ایس) افسر اشوک کمار اگروال کی جانب سے دائر مجرمانہ اپیل پر سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی۔ اگروال نے راؤز ایونیو کورٹ کے خصوصی جج (پی سی ایکٹ) کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں متعلقہ سی بی آئی افسران کے خلاف سی آر پی سی کی دفعہ 340 کے تحت کارروائی شروع کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے خصوصی جج کو سشیل دیوان، ونیت ونایک، امیت کمار، رمن تیاگی، پریم کمار گوتم اور محمد آزاد کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 191، دفعہ 193 اور دفعہ 209 کے تحت قابل سزا جرائم کے مبینہ ارتکاب پر تحریری شکایت درج کرنے کی ہدایت دی۔ ہدایت دی گئی ہے کہ فیصلہ موصول ہونے کے 4 ہفتوں کے اندر شکایت متعلقہ دائرۂ اختیار رکھنے والے مجسٹریٹ کو بھیج دی جائے۔ یہ معاملہ انسداد بدعنوانی قانون کے تحت آمدنی سے زیادہ اثاثوں کے معاملے میں سی بی آئی کی جانب سے اگروال کے خلاف چلائے گئے مقدمے سے متعلق ہے۔ یہ استغاثہ 26 نومبر 2002 کو جاری کیے گئے منظوری کے حکم پر مبنی تھا۔
جنوری 2016 میں دہلی ہائی کورٹ نے منظوری کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا، جس کے بعد خصوصی جج نے مارچ 2016 میں اگروال کو بری کر دیا۔ اس کے بعد سی بی آئی نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے پر غور کیا۔ 8 جون 2016 کو وزارت قانون و انصاف کی جانب سے دی گئی قانونی رائے میں کہا گیا تھا کہ اس معاملے کو ہائی کورٹ میں لے جانے کی کوئی مناسب بنیاد نہیں ہے۔ یہ رائے محکمۂ برائے عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کے ذریعے یکم جولائی 2016 کو سی بی آئی کو مطلع کی گئی تھی۔ اس کے بعد اگروال نے تحقیقات کے دوران ضبط کیے گئے دستاویزات جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
سی بی آئی نے 2 اگست 2016 کو دائر اپنے جواب میں کچھ دستاویزات جاری کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی کے سلسلے میں انتظامی وزارت کے ساتھ خط و کتابت جاری ہے۔ اس کے بعد خصوصی جج نے سی بی آئی کو ایک واضح جواب داخل کرنے کی ہدایت دی، جس میں یہ بتایا جائے کہ کیا کوئی اپیل یا نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی ہے یا زیر التوا ہے۔ اس کے بعد اگروال نے 8 اگست 2016 کو سی آر پی سی کی دفعہ 340 کے تحت ایک درخواست دائر کی، جس میں الزام لگایا گیا کہ یہ بیان حقائق کے اعتبار سے غلط تھا، کیونکہ اس وقت انتظامی وزارت کے ساتھ کوئی حقیقی خط و کتابت نہیں ہوئی تھی اور سی بی آئی کو پہلے ہی وزارت قانون و انصاف کی جانب سے اس معاملے کو اعلیٰ عدالت کے سامنے آگے نہ بڑھانے کی رائے مل چکی تھی۔ ہائی کورٹ نے پایا کہ سی بی آئی نے 8 اگست کو ہی ڈی او پی ٹی کو اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے اور مزید قانونی رائے طلب کرنے کی تجویز بھیجی تھی۔9 اگست کو دائر کیے گئے ایک اضافی جواب میں سی بی آئی نے کہا کہ اس نے اصولی طور پر جنوری 2016 کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور یہ تجویز 8 اگست کو محکمہ کو بھیج دی گئی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
