جموں و کشمیر پر فیصلہ لینے کا طریقہ انتہائی غلط، جمہوریت کے لیے خوفناک پیغام

متنازعہ دفعہ 370 کو ہٹانے کی بات جن سنگھ اور بی جے پی 1950 کی دہائی سے کرتی رہی ہے۔ اس بار جب زبردست اکثریت حاصل کر مودی نے دوبارہ حکومت بنائی تو اس پرانے وعدہ کو پورا کرنا آسان ہو گیا۔

جموں و کشمیر انتخابات کی فائل تصویر
جموں و کشمیر انتخابات کی فائل تصویر
user

آشا کھوسا

جموں و کشمیر کے ’سرکاری معاملوں‘ میں کیا مجھے ہندوستانی آئین کی دفعہ 370 کے تحت ملے خصوصی اختیارات کے وہ فائدے ملے جو ہندوستان کے دیگر لوگوں کو حاصل نہیں ہیں؟

ایماندری سے کہوں تو میں نے ان ’خصوصی اختیارات‘ کا کبھی تجربہ نہیں کیا، بلکہ اس کے برعکس مجھے کئی بار کافی تفریق کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں مستقل باشندہ کو سرٹیفکیٹ (پی آر سی) بنوانا ہوتا ہے۔ اس کی ضرورت پروفیشنل کالجوں میں داخلہ لینے، ملازمتوں اور کسی ملکیت کو خریدنے یا اسے ولدیت کی بنیاد پر پانے کے وقت ہوتی ہے۔ اس پر مجسٹریٹ کی مہر لگتی ہے کہ یہ ’شادی تک قابل قبول ہے‘۔ اس طرح کی خبریں صرف خواتین کے سرٹیفکیٹ پر درج ہوتی تھیں، مردوں کے سرٹیفکیٹ میں ایسا نہیں لکھا جاتا۔ میں نے اس تفریق کے ساتھ جموں و کشمیر میں طویل زندگی گزاری ہے۔


اس کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ وزیر اعلیٰ رہے فاروق عبداللہ کی بیوی برطانیہ نژاد سے ہیں۔ ان کے بیٹے کی چھوڑی ہوئی بیوی ہریانہ سے ہیں۔ وہ دونوں جموں و کشمیر کی ’شہری‘ خود بہ خود بن گئیں۔ میں نے ریاست سے باہر کے باشندہ سے شادی کی تو مجھ سے یہاں کی بیٹی ہونے کا اختیار چھین لیا گیا۔ اور یہ بھی دھیان رہے کہ ریاست سے باہر شادی کرنے والی میری جیسی کچھ لبرل خواتین کے ساتھ ہی ایسا نہیں ہوا، ولدیت کی بنیاد پر ملکیت پانے کی خواہش مند چھوڑی گئی خواتین، بیوہ، الگ رہنے والی بیویوں اور یہاں تک کہ ریاست کے باہر کے شخص سے شادی کرنے کے بعد اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کی خواہش مند خواتین کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔

اس طرح کے صنفی تفریق کو چیلنج کرنے والی خواتین کی عرضی سپریم کورٹ میں 2003 میں آئی جس پر اس نے خواتین کے حق میں فیصلہ دیا۔ اس طرح کے تفریق آمیز اصولوں کے خلاف عدالت نے پھٹکار لگائی اور اسے ختم کرنے کو کہا۔ سیاسی قیادت اس پر لگاتار آنا کانی کرتی رہی۔ اس نے اس پر جواب دینے میں کافی وقت لیا اور بالآخر میری جیسی خواتین کو اس طرح کی تنبیہ کے ساتھ ’باہری شخص‘ (مطلب ہندوستانی) کی بیوی کی شکل میں ملکیت خریدنے یا ولدیت کی بنیاد پر پانے کا حق دیا۔ میں ایسی ملکیت اپنے بچوں کو نہیں دے سکی۔ خاندانی ملکیت والا یہ حق ایک نسل کے بعد ختم ہو جاتا ہے۔


اس کے بعد بھی صنفی تفریق جاری رہا کیونکہ آئین کی دفعہ 35 اے نے ’سرکاری معاملوں‘ کے لیے اہلیت طے کرنے کا خصوصی اختیار ریاستی اسمبلی کو دے رکھا تھا۔ ایک تو مردوں کی بالادستی والا نظام ہے، اور دوسرے یہ کہ جو کچھ خاتون لیڈر ہیں بھی، ان میں یہ بات بھر دی گئی ہے کہ اس طرح کی شادی جموں و کشمیر کے مسلم اکثریتی کردار کو بدل دیں گے۔ ایسی حالت میں خواتین کی آزادی اور ان کے اختیارات کو لے کر عدم برداشت جاری رہا۔

خصوصی درجہ اور اس کے ارد گرد کی سیاست کے سبب میری ریاست میں باہر کی کسی اہل کمپنی نے اپنا ادارہ نہیں کھولا۔ سرکار کے ماتحت کالجوں سے الگ یہاں کوئی اہم یا پروفیشنل کالج نہیں ہے۔ مجھے اور میرے ہم عمر لوگوں کو پڑھنے اور ملازمت کرنے کے لیے دوسری ریاستوں میں جانا پڑا۔ ہندو ہونے کے ناطے میں اس سوچ کے ساتھ بڑی ہوئی کہ مجھے پڑھنے اور ملازمت کرنے کے لیے جموں و کشمیر چھوڑنا پڑے گا کیونکہ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کا پورا نظام میرے خلاف تعصب سے بھرا ہے۔ وادی میں دہشت گردی اور سماجی بدامنی کی وجہ سے بالآخر بھاگ جانے والے کشمیری پنڈتوں کی فیملیوں میں ایک کہاوت مشہور ہے... ایک پیر ہمیشہ باہر رکھو۔ مطلب یہ کہ اپنی زندگی چلانے بچانے کے لیے کشمیر چھوڑنے کا متبادل برابر بنائے رکھنا چاہیے۔


ریاست کے جھنڈے نے مجھے کبھی متوجہ نہیں کیا کیونکہ میں نے اسے لے کر کوئی قابل ترغیب کہانی کبھی نہیں سنی۔ یہ نیشنل کانفرنس کے جھنڈے کی طرح لگتا رہا جس کی پیدائش مسلم کانفرنس کی شکل میں ہوئی۔ لیکن نام بدلنے کے بعد بھی یہ پارٹی مسلم حامی ترجیحات کو بدل نہیں سکی۔ ریاستی آئین ہندوستانی آئین سے الگ نہیں تھا اور ایک طرح سے صرف تعزیرات کا لغت بدلا گیا تھا۔ تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی جگہ ان پر تعزیرات رنبیر (آر پی سی) کے تحت کارروائی کی جاتی تھی۔

لیکن ہاں، خصوصی اختیارات کا استعمال کچھ لوگوں کو ضرور کرنے کو ملتا تھا اور وہ تھے برسراقتدار لوگ۔ ان لوگوں نے خصوصی اختیار کا کس طرح فائدہ اٹھایا، اس کی ایک چھوٹی سی مثال دیکھیے۔ ایمرجنسی کے دوران سبھی اسمبلیوں اور لوک سبھا کی مدت کار چھ سالوں کی کر دی گئی۔ جموں و کشمیر اسمبلی نے فوراً اس پر عمل کیا۔ لیکن جب ایمرجنسی ختم ہوا اور جنتا پارٹی حکومت نے یہ قانون بدل کر اسمبلیوں کی مدت کار واپس پانچ سال کر دیا، تب بھی جموں و کشمیر کے اراکین اسمبلی نے اسے نہیں بدلا۔ انھیں ایک زیادہ سال کی تنخواہ اور دیگر سہولیات ملتی رہیں۔ یہ سب اس سرکاری خزانے سے ہوتا رہا جسے ریاستی ملازمین کو تنخواہ دینے میں پریشانی ہوتی تھی۔ لیکن اس بات نے اراکین اسمبلی کے ذہن کو کبھی چوٹ نہیں کیا۔


اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوک سبھا اور دیگر ریاستوں کی اسمبلیوں کے انتخاب جہاں ہر پانچ سال میں ہوتے ہیں، وہیں جموں و کشمیر اسمبلی کے انتخاب چھ سال پر ہوتے رہے۔ اس سے مجھے کیا فائدہ ہوتا ہے؟

کچھ لوگوں کے لیے ’خصوصی اختیار‘ کا کلچر سیاسی اور سماجی سطح پر چھایا ہوا تھا۔ جنھیں سب سے زیادہ خصوصی اختیار حاصل تھا، ان کا ایک خاص طبقہ بن گیا جب کہ جو استحصال زدہ ہیں، وہ عام آدمی ہے۔ کشمیری قیادت نے ووٹ پانے کے لیے مختلف صورتوں میں متبادل کے طور پر جمہوریت اور سیکولرزم کا استعمال کیا۔ لداخ کے لوگوں نے سب سے پہلے اس طرح کی دیگر تفریقوں کے خلاف سب سے پہلے جھنڈا بلند کیا۔ جموں کشمیریوں کی بالادستی کے خلاف غصے سے سلگتا رہا ہے۔


اس لیے دفعہ 370 ہٹانے اور جموں و کشمیر کو دو حصوں (لداخ اور جموں و کشمیر) میں بانٹنے کے فیصلے نے یہ سب کچھ بدل دیا ہے۔ اس متنازعہ دفعہ کو ہٹانے کی بات جن سنگھ اور بی جے پی 1951 کی دہائی سے کرتی رہی ہے۔ اس بار جب نریندر مودی نے زبردست اکثریت سے مرکز میں دوبارہ حکومت بنائی تو اس بہت پرانے وعدے کو پورا کرنے کا وقت آ بھی گیا تھا۔ لیکن جب ان سب کے بارے میں فیصلہ ہو رہا تھا، یہاں کے کافی سارے لوگوں کو ان کے بارے میں فوراً پتہ ہی نہیں چل سکا کیونکہ دفعہ 144 لگا دیا گیا تھا، انٹرنیٹ، فون بند رہے اور یہاں تک کہ ٹی وی چینل کا نشریہ تک روک دیا گیا تھا۔

ویسے، یہ سب کرنے کا قابل اعتراض رخ وہ عمل ضرور ہے جو اختیار کیا گیا۔ وادی میں فوجی قوت زیادہ تعداد میں تعینات ہے۔ امرناتھ یاترا اچانک ختم کر دی گئی۔ یہاں کے کالجوں میں پڑھ رہے دوسری ریاستوں کے طلبا کو یہں سے چلے جانے کو کہا گیا اور کالجوں میں اچانک چھٹیاں کر دی گئیں۔ ان سب سے کشمیر میں یہ خوف پیدا ہو گیا کہ کہیں کچھ بڑا ہونے والا ہے۔ جب یہاں کے لوگوں کی قسمت کا فیصلہ ہونے جا رہا تھا، اس وقت ان لوگوں کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے ساتھ کچھ غلط ہونے والا ہے۔


ان سب سے دہلی اور کشمیر کے درمیان عدم اعتماد کی گہری کھائی بن گئی ہے اور اسے آنے والے دنوں میں بھرنا مشکل ہوگا۔ یہ سوچنے کی بات ہے کہ بھلے ہی تشدد کا اندیشہ بنا ہوا تھا، آخر کار کشمیریوں کو پورے عمل کا حصہ کیوں نہیں بنایا جا سکا؟ ہماری جمہوریت کے مستقبل کے لیے اس طرح کا عمل خوفناک پیغام چھوڑ گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 Aug 2019, 10:10 AM