مردہ قرار دیا گیا شخص 7 گھنٹے بعد مردہ خانے کے فریزر میں زندہ پایا گیا

اہل خانہ نے کہا، ’’ہم ڈاکٹروں کے خلاف لاپرواہی کی شکایت درج کرائیں گے کیونکہ انہوں نے شریکیش کو فریزر میں رکھ کر تقریباً مار ہی ڈالا تھا‘‘

مردہ خانہ / آئی اے این ایس
مردہ خانہ / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

مرادآباد: اتر پردیش کے مراد آباد میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا، جس میں ایک 40 سالہ شخص کو مردہ خانے کے فریزر میں تقریباً سات گھنٹے تک رکھا گیا۔ معلومات کے مطابق الیکٹریشن شریکیش کمار کو ایک تیز رفتار موٹر سائیکل نے ٹکر مار دی، جس کے بعد جمعرات کی رات اسے ضلع اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ اگلے دن ہسپتال کے عملے نے لاش کو فریزر میں رکھ دیا۔

تقریباً سات گھنٹے بعد جب پنچنامہ یا دستاویز پر لاش کی شناخت کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے کنبہ کے افراد کے دستخط لے کر رضامندی حاصل کی جانی تھی، تو کمار کی بھابی مدھوبالا کو لاش میں حرکت نظر آئی۔

وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں مدھوبالا کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے، ’’وہ مرا نہیں ہے۔ یہ کیسے ہوا؟ دیکھئے وہ کچھ کہنا چاہتا ہے، وہ سانس لے رہا ہے۔‘‘


مرادآباد کے چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شیو سنگھ نے کہا، ’’ایمرجنسی میڈیکل آفیسر نے مریض کو صبح 3 بجے دیکھا تو اس کا دل نہیں دھڑک رہا تھا۔ اس نے کئی بار اس شخص کا معائنہ کیا، اس کے بعد اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ لیکن صبح پولیس ٹیم اور اس کے اہل خانہ نے اسے زندہ پایا۔ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے۔ اب ہماری ترجیح اس کی جان بچانا ہے۔"

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ یہ ان غیر معمولی معاملات میں سے ایک ہے.. جنہیں ہم غفلت نہیں کہہ سکتے۔ کمار اب میرٹھ کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت میں بہتری آئی ہے۔ وہیں اہل خانہ نے کہا، ’’ہم ڈاکٹروں کے خلاف لاپرواہی کی شکایت درج کرائیں گے کیونکہ انہوں نے شریکیش کو فریزر میں رکھ کر تقریباً مار ہی ڈالا تھا‘‘۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔