’تحفظ باندھ بل 2019‘ لوک سبھا میں پیش، اپوزیشن کی مخالفت

کانگریس اور ٹی ایم سی سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تالاب اور باندھ ریاست کے دائرہ اختیار میں ہےاور مرکزی حکومت کو اس بارے میں قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

نئی دہلی: اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان لوک سبھا میں پیر کو تحفظِ باندھ بل 2019 پیش کیا گیا۔ جل شکتی کے وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت کےایوان میں یہ بل پیش کرنے پر اپوزیشن نے اسے ریاستوں کے حقوق میں دخل اندازی قرار دیتے ہوئے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کو غوروخوض کے لیے سونپنے کا مطالبہ کیا۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن چودھری سمیت کانگریس کے رہنما ششی تھرور، منیش تیواری، ریولیوشنری سوشلسٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پریم چندرن، ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ پروفیسر سوگت رائے، بیجو جنتا دل کے رکن بھرت ہری مہتاب، ڈی ایم کے کے رکن پارلیمنٹ اے راجہ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تالاب اور باندھ ریاست کے دائرہ اختیار میں ہےاور مرکزی حکومت کو اس بارے میں قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے باندھوں کی حفاظت ہو لیکن حکومت اس کے لیے بے راہ رو نہیں ہوسکتی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نِشی کانت دوبے نے کہا کہ یہ بل دفعہ 256 کے تحت لایا گیا ہے نہ کہ دفعہ 252 کے تحت۔ اس لیے مرکز کو بل لانے کا مکمل اختیار ہے۔ جل شکتی کے وزیر شیخاوت نے کہا کہ پورے ملک میں 5344 بڑے باندھ ہیں جن میں سے 293 باندھ سو سال سے زیادہ پرانے ہیں جبکہ 1041 باندھ 50 سے 100 سال پرانے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ باندھ محض بنیادی ڈھانچہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کاایکولوجیکل نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ بل میں باندھ کے تحفظ کا خود کار بنانے کی بات کہی گئی ہے جبکہ آپریٹنگ اور بحالی کا کنٹرول پوری طرح سے ریاستوں کے پاس رہے گا۔ اس طرح سے ریاستوں کے حقوق میں کسی طرح کی دخل اندازی نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے سالسٹر جنرل سے بھی اس بارے میں رائے لی گئی ہے اور ان کاکہنا ہے کہ مرکزی حکومت اس بل کو لا سکتی ہے۔