چوری کے الزام میں دلت کی پٹائی، کپڑے اتار کر کیا آگ کے حوالے

اتر پردیش کے بارہ بنکی میں جمعہ کو رونگٹے کھڑے کر دینے والا واقعہ پیش آیا۔ ایک دلت نوجوان کو کچھ لوگوں نے چور سمجھ کر اس وقت بے رحمانہ پٹائی کر دی جب وہ اپنی سسرال جا رہا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

اتر پردیش میں مبینہ طور پر بھیڑ نے ایک دلت شخص کو چور سمجھ کر پہلے اس کے کپڑے اتار دئیے اور پھر اسے باندھ کر پیٹا۔ آخر میں اس دلت شخص کو بے رحم بھیڑ نے آگ کے حوالے کر دیا۔ جب پولس کو اس واقعہ کی اطلاع ملی تو موقع پر پہنچ کر سنجیت کمار نامی دلت شخص کو بغرض علاج لکھنؤ کے ایک اسپتال میں داخل کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ نوجوان 30 فیصد جل چکا تھا جب اسے پولس نے علاج کے لیے اسپتال بھیجا۔

پولس کا اس معاملے میں کہنا ہے کہ تین نامزد ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ چوتھے نامعلوم شخص کو پکڑنے کے لیے تلاش جاری ہے۔ پولس کے مطابق سجیت کمار جمعرات کی شب اپنی سسرال جا رہا تھا اور اسی دوران رگھو پوروا گاؤں میں کتوں کے جھنڈ نے اسے دوڑا لیا۔ کتوں سے بچنے کے لیے سجیت کمار ایک گھر کے چھپر پر چڑھ گیا۔ مقامی باشندہ شرون کمار، امیش، رام لکھن اور دو دیگر لوگوں نے جب اسے گھر کے پاس چھپے دیکھا تو اسے پکڑ لیا اور پیٹنا شروع کر دیا۔

سجیت کمار نے انھیں بتایا کہ وہ اپنی بیوی کو واپس گھر لے جانے کے لیے آیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اس کی کوئی بات نہیں سنی۔ انھوں نے اسے مبینہ طور پر چور بتا کر پیٹنا شروع کر دیا۔ اس کے کپڑے اتار دئیے گئے، اس کی پٹائی کی گئی اور پھر اس پر پٹرول ڈال کر آگ کے حوالے کر دیا گیا۔ اس دوران کچھ لوگوں نے پولس کو اس کی خبر کردی جس کے بعد پولس کی گشتی ٹیم نے آ کر سجیت کو بچایا۔ پہلے بری طرح زخمی سجیت کو ایک پرائیویٹ اسپتال لے جایا گیا اور پھر بعد میں اسے لکھنؤ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

بارہ بنکی کے پولس سپرنٹنڈنٹ آکاش تومر نے کہا کہ ایس سی/ایس ٹی ایکٹ اور تعزیرات ہند کی دفعہ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے، جس میں قتل کی کوشش اور جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا شامل ہے۔

سول اسپتال کے چیف میڈیکل سپرٹنڈنٹ آشوتوش دوبے نے کہا کہ آگ کی وجہ سے سجیت کے جانگھوں سے لے کر پیر تک جل گئے ہیں۔ دوبے نے مزید کہا کہ ’’اسے نگرانی میں رکھا گیا ہے لیکن اس کی حالت سنگین بنی ہوئی ہے۔‘‘

Published: 20 Jul 2019, 9:10 PM