اتر پردیش: چوری کے الزام میں مسلم نوجوان کی بے رحمی سے پٹائی، کیس درج

بریلی میں ایک بار پھر بھیڑ کی بربریت اس وقت دیکھنے کو ملی جب چوری کے الزام میں ایک مسلم نوجوان کی بے رحمی سے پٹائی کر دی گئی اور پھر بعد میں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔

علامتی تصویر، آئی اے این ایس
علامتی تصویر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

یوگی حکومت میں ایک بار پھر بھیڑ کا تشدد منظر عام پر آیا ہے۔ بریلی میں بھیڑ کے تشدد کے ایک نئے معاملے میں مسلم نوجوان ساحل کو اس کے بالوں سے گھسیٹا گیا، بے رحمی سے پٹائی کی گئی، اور اور پھر اس کے پیروں کو باندھ دیا گیا تاکہ وہ چوری کی بات قبول کر لے۔ واقعہ منگل کی دوپہر بس اڈے پر پیش آیا اور اس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔

بریلی کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) روہت سنگھ سجوان نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے از خود نوٹس لیا ہے اور نامعلوم اشخاص کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 147 (فساد)، 149 (غیر قانونی جلسہ کے کسی بھی رکن کے ذریعہ کیا گیا جرم)، 323 (قصداً چوٹ پہنچانا) اور 342 (غلط جیل) کے تھت شکایت درج کی ہے۔ ساحل کے ساتھ مار پیٹ کرنے والے کی ویڈیو اور تصویروں کے ذریعہ شناخت کی جائے گی۔‘‘


واقعہ کے تعلق سے بتایا جا رہا ہے کہ ایک مسافر دیویندر کمار نے پایا کہ اس کا فون اس کی جیب سے غائب تھا، جب کہ ایک دیگر شخص نے دعویٰ کیا کہ اس کا والیٹ چوری ہو گیا تھا۔ جب راہ گیروں نے پاس کھڑے لوگوں سے پوچھ تاچھ شروع کر دیا اور 20 سالہ مزدور محمد ساحل سے جب پوچھ تاچھ کی گئی تو وہ لڑکھڑا گیا۔ بھیڑ نے فوراً اس پر حملہ کر دیا اور مار پیٹ کرنے لگے۔

بتایا جاتا ہے کہ پولیس کے پہنچنے سے قبل تقریباً 30 منٹ تک اس کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ حالانکہ اس کے پاس سے چوری کا کوئی بھی سامان برآمد نہیں ہوا۔ زخمی ساحل کو فوری علاج کے لیے اسپتال لے جایا گیا اور بعد میں اسے لاک اَپ میں ڈال دیا گیا۔ دیویندر کمار کی شکایت کی بنیاد پر ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ کوتوالی ایس ایچ او پنکج پنت نے کہا کہ ہم نے پایا کہ ساحل جرم میں شامل تھا، لیکن ساحل کے پاس کوئی فون یا والیٹ نہیں ملا۔ ہمیں اس کے دوست صابر نام کے ایک شخص کا فون ملا۔ اسے بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بریلی میں 2019 کے بعد سے یہ چوتھا ایسا معاملہ ہے۔


غور طلب ہے کہ اگست 2019 میں مویشی چوری کے شبہ میں بھیڑ کے ذریعہ حملہ کیے جانے کے بعد ایک ذہنی طور سے بیمار مسلم شخص کی پٹائی کی گئی جس سے وہ کومہ میں چلا گیا۔ اس کی اسپتال میں موت ہو گئی۔ گزشتہ سال ستمبر میں شراب کے نشے میں مدہوش ایک مسلم شخص کو چور سمجھ لیا گیا تھا اور پھر اس کی پٹائی درخت سے باندھ کر بھیڑ کے ذریعہ کی گئی تھی۔ اس کی بھی علاج کے دوران موت ہو گئی تھی۔ علاوہ ازیں رواں سال فروری میں 31 سالہ ایک مسلم ٹیکسی ڈرائیور پر مویشی چوری اور پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے اس کی بھی موت ہو گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔