نریندر گری کی موت سے متعلق جانچ کے لیے بن سکتا ہے ریٹائرڈ ہائی کورٹ ججوں کا پینل

مہنت ہری گری کا کہنا ہے کہ مہنت نریندر گری کی موت خودکشی کا معاملہ نہیں ہے، انھوں نے کہا کہ سی بی آئی جانچ کا نتیجہ جو بھی ہو، میں یہ ماننے کو تیار نہیں کہ مہنت نریندر گری خودکشی کر سکتے ہیں۔

مہنت نریندر گری کی فائل تصویر
مہنت نریندر گری کی فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد (اے بی پی) کے جنرل سکریٹری مہنت ہری گری نے کہا ہے کہ اکھاڑا پریشد مہنت نریندر گری کی موت کی جانچ کے لیے ہائی کورٹ کے پانچ سبکدوش ججوں کو ملا کر ایک الگ جانچ پینل تقرر کر سکتی ہے۔ مہنت نے کہا کہ یہ ایشو سیدھے طور پر سبھی سینئر سنتوں کی سیکورٹی سے جڑا ہے۔

جونا اکھاڑے کے چیف کسٹوڈین مہنت ہری ہری نے دہرایا کہ مہنت نریندر گری کی موت خودکشی کی وجہ سے نہیں ہوئی تھی۔ گری نے کہا کہ ’’سی بی آئی جانچ کا نتیجہ جو بھی ہو، میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ مہنت نریندر گری، جو 30 سال سے زیادہ وقت سے میرے قریبی معاون رہے ہیں، خودکشی کر سکتے ہیں۔‘‘


انھوں نے سوال اٹھایا کہ کوئی کیسے مان سکتا ہے کہ اتنی صلاحیت رکھنے والا ایک شخص ایسا قدم اٹھا سکتا ہے؟ اس وجہ سے ہمیں لگتا ہے کہ کہانی کے لیے اور بھی بہت کچھ ہے جس کے لیے ایک گہری جانچ کی ضرورت ہے۔ ماضی میں چار سَنتوں کی پراسرار حالت میں موت ہو چکی ہے اور نریندر گری کو چھوڑ کر کوئی جانچ نہیں ہوئی ہے۔ کیا ہوا، یہ جاننے میں کسی کی دلچسپی نہیں ہے۔

نرنجنی اکھاڑے کے بلبیر گری کو نریندر گری کا جانشیں بنائے جانے کے معاملے پر ہری گری نے اسے ایک اکھاڑے کا اندرونی معاملہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ ہماری روایت ہے کہ ایک اکھاڑا دوسرے اکھاڑے کے فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتا۔ بھلے ہی ان کے (نریند گری کے) شاگرد کو باگھمبری مٹھ کا مکھیا بنایا جا رہا ہے، لیکن نرنجنی اکھاڑے میں موت کے پیچھے کی سچائی کا پتہ لگانا سبھی کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔