دھرم یاترا نہیں سیاست کرنے آئے ہیں ٹھاکرے: اقبال انصاری

اقبال انصاری نے اتوار کو اپنی رہائش پر یو این آئی سے بات چیت میں کہا کہ متنازعہ زمین کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اس لئے اس ضمن میں دونوں جانب کے فریق کو عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اجودھیا: ایودھیا میں متنازعہ زمین معاملے میں فریق محمد اقبال انصاری نے شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کے ایودھیا دورے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سیاست داں کی ’دھرم یاترا‘ نہیں بلکہ سیاست ہے۔

اقبال انصاری اتوار کو اپنی رہائش پر یو این آئی سے بات چیت میں کہا کہ متنازعہ زمین کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے اس لئے اس ضمن میں دونوں جانب کے فریق کو عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کا ایودھیا دورہ مکمل طور سے سیاست سے متأثر ہے۔ مانا کی ایودھیا دھرم نگری ہے یہاں سریو اسنان، ہنومان گڑھی اور رام للا کا درشن کرنا اچھی بات ہے لیکن 18 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ ایودھیا آنا یہ دھرم نہیں بلکہ سیاست ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ بابری مسجد اور رام جنم بھومی کی سیاست نہ کریں تو بہتر ہے۔ اس معاملے کو حل کرنے کے لئے سپریم کورٹ نے پینل بھی بنایا ہے۔ وہی پینل دونوں فریقین سے بلا رہا ہے۔ ایودھیا ایک مذہبی مقام ہے لیکن سیاست داں یہاں صرف سیاست کرنے آتے ہیں۔ اپنے مقصد کے لئے وہ رام جنم بھومی۔بابری مسجد کی سیاست کرتے ہیں۔ بابری مسجد کے فریق نے کہا کہ ایودھیا سادھو سنتوں کا شہر ہے اور جہاں سادھو سنت ہوتے ہیں وہاں امن ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاملہ کورٹ میں ہے اس لئے ہمیں اس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے لیکن ایسا لگتا ہے کہ فریق ثانی کو عدالت پر یقین نہیں ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو آئین کو نہیں مانتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے میں ثالثی پینل تشکیل دیا ہے جو اپنا کام کر رہا ہے۔ ان لوگوں کو تھوڑا اور صبر کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مندر۔مسجد پر کوئی ایسی بیان بازی نہیں کرنی چاہیے جس سے کسی ایک فریق کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ ہمیں مل کر سماجی ہم آہنگی کے لئے کام کرنا چاہیے۔

Published: 16 Jun 2019, 9:10 PM
next