مغربی ایشیا میں کشیدگی کے ہندوستان پر اثرات: بڑھے گی مہنگائی، گھٹے گی جی ڈی پی کی شرح نمو

موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئےعالمی ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ نجی کھپت میں کمی، صنعتی سرگرمیوں میں سست روی اور زیادہ لاگت کی وجہ سے سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ سکتی ہے جس سے شرح نمو متاثر ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

عالمی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے’ موڈیز ریٹنگس‘ نے ہندوستان کی اقتصادی شرح ترقی کی رفتار کم کرکے نئے مالی سال 27-2026 کے لیے اسے 6 فیصد کردیا ہے جس کے لیے پہلے6.8 فیصد کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری تنازعہ ہندوستان کی اقتصادی ترقی کو متاثر کرے گا اور افراط زر کے خطرات میں اضافہ ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایل پی جی کی سپلائی میں رکاوٹ اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا گھریلو اثر پڑ سکتا ہے۔ اس سے نقل و حمل کے اخراجات بڑھیں گے اور خوراک کی افراط زر پر دباؤ پڑے گا کیونکہ ہندوستان کھاد کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ مغربی ایشیا ہندوستان کے خام تیل کا تقریباً 55 فیصد اور ایل پی جی کا 90 فیصد سے زیادہ درآمد کرتا ہے۔


موڈیز نے اپنی تازہ رپورٹ میں نئے مالی سال میں افراط زر کی اوسط شرح 4.8 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے، جو کہ 26-2025 کے 2.4 فیصد سے زیادہ ہے۔ ایجنسی کے مطابق جغرافیائی سیاسی خطرات کی وجہ سے افراط زر کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور جمود کا شکار اقتصادی ترقی کے درمیان پالیسی سود کی شرح کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے یا بتدریج بڑھایا جا سکتا ہے، یہ تنازع کے دورانیے اور اثرات پر انحصار کرے گا۔ ایجنسی کے مطابق نجی کھپت میں کمی، صنعتی سرگرمیوں میں سست روی اور زیادہ لاگت کی وجہ سے سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑ سکتی ہے جس سے شرح نمو متاثر ہوگی۔

اس سے پہلے او ای سی ڈی نے بھی حال ہی میں ہندوستان کی شرح نمو 6.1 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا ہے۔ وہیں وی وائی  کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر تنازع جاری رہا تو شرح نمو تقریباً ایک فیصد تک گر سکتی ہے۔ اسی طرح گھریلو ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے نے مالی سال27- 2026 میں 6.5 فیصد کی شرح نمو کا اندازہ لگایا ہے۔


رپورٹ کے مطابق تیل، گیس اور کھاد کی اونچی قیمتوں سے حکومتی سبسڈیز کا بوجھ بڑھے گا اور محصولات پر دباؤ پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی سے ٹیکس کی وصولی پر اثر پڑسکتا ہے۔ ہندوستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2025 میں کم ہو کر 0.4 فیصد رہا لیکن27- 2026 میں اس کے 1.5-1 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ مہنگی درآمدات اور تجارتی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خلیجی خطے سے آنے والی ترسیلات زر، جو کل بہاؤ کا تقریباً 40 فیصد ہے، بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔