بنارس ہندو یونیورسٹی میں افطار پارٹی کے بعد کشیدگی، وی سی کا پتلا نذر آتش

مشتعل طلبا نے الزام عائد کیا کہ ملک یکساں سول کوڈ کی جانب گامزن ہے لیکن وی سی سدھیر کمار جین یہاں خوشامد کی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی ایچ یو / آئی این ایس
بی ایچ یو / آئی این ایس
user

قومی آوازبیورو

وارانسی: بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) میں افطار پارٹی کے انعقاد کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہاں ہندوتوادی طلبا کے ایک گروپ نے کیمپس میں افطار پارٹی کے انعقاد کے خلاف وی سی کا پتلا نذر آتش کیا۔ مشتعل طلبا نے الزام عائد کیا کہ ملک یکساں سول کوڈ کی جانب گامزن ہے لیکن وی سی سدھیر کمار جین یہاں خوشامد کی سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

طلبا میں سے بیشتر بی جے پی کی طلبا تنظیم اے بی وی پی سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے وی سی کی رہائش گاہ کے سامنے نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا افطار پارٹی کی اجازت دینا یونیورسٹی کی روایات کے خلاف ہے۔


مظاہرین نے الزام لگایا کہ وی سی نے اس افطار پارٹی کو منعقد کرنے کے لیے خاتون کالج کا انتخاب کیا تاکہ وہ خواتین طالبات کو پولرائز کر سکیں اور اپنی ’ہندو مخالف‘ ذہنیت سے تقسیم پیدا کر سکیں۔ بدھ کی رات افطار پارٹی پر ہنگامہ آرائی کے بعد جمعرات کو بی ایچ یو کیمپس میں فرقہ وارانہ رنگ کے پوسٹر دیکھے گئے۔ بی ایچ یو کے عہدیدار اس واقعہ پر تبصرہ کرنے کو تیار نہیں۔ ضلعی حکام نے بتایا کہ صورتحال کے پیش نظر پولیس فورس کو متحرک رکھا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔