لاک ڈاؤن: گھروں میں ’رامائن‘ کا لطف اور سڑکوں پر روٹی کی ’مہابھارت‘!

’’رامائن گھروں میں چل رہی ہے اور مزدور طبقہ سڑک پر ’روٹی‘ کے لئے ’مہابھارت‘ دیکھ رہا ہے، اوپر سے پولیس کی لاٹھیاں بطور سود حاصل ہو رہی ہیں‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

لکھنؤ: عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکے کورونا وائرس کے انفیکشن کو روکنے کے لئے پورا ملک اس وقت لاک ڈاؤن پر ہے۔ دریں اثنا، خانہ نظربند لوگوں کو لطف اندوز کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے سرکاری ٹی وی چینل ’دوردرشن‘ پر مذہبی سیریل ’رامائن‘ کو از سر نو نشر کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن بڑے شہروں میں روزگار ختم کے بعد دیہاتوں کی جانب پیدل سفر کرنے والے مزدوروں کے لئے سڑک پر ’روٹی‘ حاصل کرنا ’مہابھارت‘ (جنگ عظیم) بنتا جا رہا ہے۔

گزشتہ پانچ دنوں سے سڑکوں پر ایسی بہت سی تصاویر نظر آ رہی ہیں جو کسی بھی ذی شعور شخص کا دل دہلا دیتی ہیں۔ کورونا وائرس کے بڑھتے اثر کی روک تھام کے لئے 25 مارچ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ ہے، لہذا بڑے شہروں میں موجود تمام سرکاری و غیر سرکاری کمپنیاں بند کر دی گئیں اور ان میں کام کرنے والے مزدور فارغ ہو گئے ہیں۔ گاڑیوں کی عدم دستیابی کے درمیان کوئی ایک ہزار تو کوئی پانچ سو کلو میٹر کا پیدل سفر طے کرکے اپنے گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہے۔

اُن بڑے شہروں سے لوگ زیادہ تعداد میں واپس لوٹ رہے ہیں جہاں انفیکشن سے متاثرہ مریض پائے جا رہے ہیں۔ سڑکوں پر میلہ لگا ہوا ہے اور لوگ بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ذمہ داری سنبھال رہے پولیس اہلکار کہیں غریب اور مزدوروں کو لاٹھیاں سے مار رہے ہیں تو کہیں انسانوں کو مینڈکوں کی طرح چلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ سب سے خوفناک تصویر بریلی کی ہے، جہاں سرکاری ملازمین نے خواتین اور بچوں پر کیمیکل چھڑک کر انہیں سینی ٹائز کرنے کی کوشش کی!

ان تمام پہلوؤں کے درمیان مرکزی حکومت کے محکمہ اطلاعات و نشریات نے چھوٹے پردے (ٹی وی) پر مذہبی سیریل ’رامائن‘ اور ’مہابھارت‘ کا آغاز کر دیا، تاکہ گھروں کے اندر نظر بند لوگ اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں اور لطف اندوز ہوتے رہیں۔ لیکن حکومت کو شاید ہی اس بات کا علم ہو کہ جس وقت کچھ لوگ اپنے گھروں میں رامائن سیریل دیکھ رہے ہوں گے، اسی وقت سماج کا ایک بڑا طبقہ (محنت کش طبقہ) سڑکوں پر ’بھوک‘ اور ’بے عزتی‘ کا مہابھارت بھی دیکھے گا!

اگر بندیل کھنڈ کی بات کریں تو یہاں کے تقریباً دس سے پندرہ لاکھ کارکن بڑے شہروں میں رہائش پذیر ہیں، جو اب اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں ایک لاکھ سے زیادہ مزدور واپس آئے ہیں اور ان میں سے بہت کم لوگوں کی ’تھرمل اسکریننگ‘ ہوئی ہے۔

تاہم ، چتر کوٹ دھام زون کے کمشنر گورو دیال پہلے ہی بیان کر چکے ہیں کہ ’’بندیل کھنڈ کی سرحد میں ہر جگہ کورونا چیک پوسٹیں لگائی گئی ہیں، جہاں باہر سے آنے والوں کی مکمل جانچ کی جاتی ہے اور سوشل ڈسٹنسنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

تاہم، پیر کے روز ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ باندہ کے جاری کردہ ایک خط نے سرحد کی تیاریوں کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ اپنے خط میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) سنتوش بہادر سنگھ نے کہا ہے کہ ’’دیہاتوں میں بڑی تعداد میں لوگ باہر سے آئے ہیں، ان کی گائوں کے مطابق فہرست بنائی جائے اور انہیں اسکولوں، آنگن واڑی مراکز میں قرنطینہ کیا جائے۔‘‘

اس خط سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انتظامیہ کے پاس درست اعداد و شمار موجود نہیں ہیں اور سرحد میں داخل ہوتے وقت لوگوں کی جانچ بھی نہیں کی گئی۔ جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں انفیکشن میں اضافے کا خدشہ ہے۔

باندہ کے سینئر ایڈوکیٹ رنویر سنگھ چوہان کا کہنا ہے، ’’لاک ڈاؤن کا اعلان ہونے سے پہلے حکومت کو باہر کام کرنے والے افراد کی واپسی کے لئے کم از کم تین دن کی مہلت دینا چاہئے تھی۔ جلد بازی میں لئے گئے لاک ڈاؤن کے فیصلے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

چوہان نے کہا، ’’رامائن گھروں میں چل رہی ہے اور مزدور طبقہ سڑک پر ’روٹی‘ کے لئے ’مہابھارت‘ دیکھ رہا ہے۔ اوپر سے پولیس کی لاٹھیاں بطور سود حاصل ہو رہی ہیں۔‘‘

(آئی اے این ایس)