تلنگانہ بلدیاتی انتخاب کی تاریخ کا اعلان، ای وی ایم کے بجائے بیلٹ پیپر سے ہوگی ووٹنگ، 11 فروری کو ڈالے جائیں گے ووٹ
تلنگانہ بلدیاتی انتخاب میں خاتون ووٹرس کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر 52.43 لاکھ ووٹرس میں سے 26.80 لاکھ خواتین اور 25.62 لاکھ مرد ووٹرس ہیں۔

تلنگانہ میں 7 میونسپل کارپوریشنوں اور 116 بلدیات کے انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن (ایس ای سی) نے منگل (27 جنوری) کو پریس کانفرنس میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ 11 فروری کو ہوگی۔ اس بار انتخاب میں 52.43 لاکھ ووٹرس اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کی جگہ روایتی طریقے سے بیلٹ پیپر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹوں کی گنتی 13 فروری کو ہوگی، جبکہ میئر اور صدر کے عہدوں کے لیے انتخاب 16 فروری کو منعقد کیے جائیں گے۔
ریاستی الیکشن کمشنر آئی رانی کمودینی نے تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے انتخابی شیڈول جاری کیا۔ ان کے مطابق امیدوار بدھ (28 جنوری) سے کاغذات نامزدگی داخل کر سکتے ہیں، جس کی آخری تاریخ جمعہ (30 جنوری) مقرر کی گئی ہے۔ نامزدگی کے کاغذات کی جانچ پڑتال کے بعد ہفتہ (31 جنوری) کو درست کاغذات نامزدگی کی فہرست شائع کی جائے گی۔ امیدواروں کے نام واپس لینے کی آخری تاریخ آئندہ ہفتے منگل (3 فروری) ہے اور اسی روز امیدواروں کی حتمی فہرست بھی جاری ہوگی۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 2996 وارڈوں میں انتخاب منعقد ہوں گے اور ووٹنگ کے لیے مجموعی طور پر 8203 پولنگ مراکز قائم کیے جائیں گے۔ انتخابی عمل کو خوش اسلوبی سے مکمل کرنے کے لیے 16031 بیلٹ باکسز کا انتظام کیا گیا ہے۔ حفاظتی اقدامات کے پیش نظر137 اسٹرانگ روم اور 136 گنتی کے مراکز بنائے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس انتخاب میں خاتون ووٹرس کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ مجموعی طور پر 52.43 لاکھ ووٹرس میں سے 26.80 لاکھ خواتین اور 25.62 لاکھ مرد ووٹرس ہیں، جو جمہوریت کی مضبوطی کی علامت ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی 13 فروری کی صبح سے شروع ہوگی اور نتائج کا اعلان جلد از جلد کر دیا جائے گا۔ اس کے ٹھیک تین دن بعد 16 فروری کو بلدیاتی اداروں میں کونسلروں کے ذریعے میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ کمیشن نے یہ یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ غیر جانبدارانہ اور پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر قسم کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔