اتراکھنڈ کی وزیر کے شوہر کے بیان پر بہار میں سیاسی ہلچل، تیجسوی یادو کا بی جے پی پر حملہ، خواتین کمیشن کا ازخود نوٹس

اتراکھنڈ کی وزیر کے شوہر کے بہار کی خواتین سے متعلق قابل اعتراض بیان پر تیجسوی یادو نے بی جے پی کو نشانہ بنایا۔ بہار اسٹیٹ ویمن کمیشن نے سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ اتراکھنڈ کو خط لکھا

<div class="paragraphs"><p>تیجسوی یادو / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پٹنہ: بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے اتراکھنڈ کی ایک وزیر کے شوہر کی جانب سے خواتین سے متعلق دیے گئے قابل اعتراض بیان پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تیجسوی یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی پوسٹ میں اس معاملے کو نہ صرف خواتین بلکہ بہار کے مجموعی سماجی وقار سے جوڑتے ہوئے بی جے پی کی سوچ پر سوال اٹھائے۔

تیجسوی یادو نے اتراکھنڈ کے بی جے پی لیڈر کا ایک مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خواتین اور بہار کے تئیں بی جے پی کی ذہنیت توہین آمیز اور نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیان میں خواتین کو رقم کے عوض خرید و فروخت کی چیز کے طور پر پیش کرنے کی بات کی گئی، جو کسی بھی مہذب سماج میں ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی زبان نہ صرف خواتین کی عزت نفس مجروح کرتی ہے بلکہ پورے بہار کی توہین کے مترادف ہے۔

اس ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد بہار کی سیاست میں ہلچل نظر آ رہی ہے اور حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے درمیان سخت بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ راشٹریہ جنتا دل کے ترجمان شکتی سنگھ یادو نے بھی اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے بہار کی خواتین کی تضحیک قرار دیا اور کہا کہ خواتین کو محض ایک شے کے طور پر دکھانا سنگین تشویش کا باعث ہے اور ذمہ دار فرد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

ادھر اس معاملے پر جب بہار بی جے پی قیادت سے ردعمل جاننے کی کوشش کی گئی تو ریاستی صدر سنجے سراوگی نے کوئی واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ تاہم پارٹی کے ترجمان پربھاکر مشرا نے اتراکھنڈ کی وزیر کے شوہر کے بیان کو شرمناک اور ذہنی دیوالیہ پن کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کسی صورت شے نہیں ہیں اور اس طرح کے بیانات ہر عورت کی توہین ہیں۔ ان کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔


اس معاملے میں بہار ریاستی خواتین کمیشن نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو خط لکھ کر فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کمیشن کی صدر اپسرا نے کہا کہ بیان نہایت شرمناک، ناپسندیدہ اور خواتین کی وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔ خط میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خواتین کو رقم کے عوض دستیاب بتانا نہ صرف صنفی تعصب کو ظاہر کرتا ہے بلکہ آئینی اقدار اور بنیادی سماجی اخلاقیات کی بھی خلاف ورزی ہے۔

کمیشن نے اس پہلو کو خاص طور پر تشویشناک قرار دیا کہ یہ بیان ایک ایسی وزیر کے خاندان کے فرد کی جانب سے آیا ہے جن کے پاس خواتین اور بچوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری ہے۔ کمیشن نے اتراکھنڈ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور تیز، سخت اور مثال قائم کرنے والی کارروائی کو یقینی بنائے، نیز کی گئی کارروائی کی تفصیلات بلا تاخیر کمیشن کو فراہم کی جائیں۔

خاتون تنظیموں، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے مختلف گروہوں نے بھی اس بیان کی شدید مذمت کی ہے اور ذمہ دار فرد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ وہ خواتین کے حقوق اور وقار سے متعلق معاملات پر پوری طرح چوکس ہے اور آئندہ کسی بھی توہین آمیز بیان یا طرزِ عمل کے خلاف سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ اب نگاہیں اتراکھنڈ حکومت کے ردعمل اور آئندہ اقدامات پر مرکوز ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔