آنسو سے بھی پھیل سکتا ہے کورونا، ماہر چشم کو محتاط رہنے کی صلاح

امرتسر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج نے ایک تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ ’اوکیولر مینی فسٹیشنز‘ کے ساتھ اور اس کے بغیر والے مریضوں کے آنسو کووڈ-19 انفیکشن کا ایک ممکنہ ذریعہ ہو سکتا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

ایک طرف کورونا انفیکشن پر قابو پانے کے لیے سائنسداں اور ڈاکٹرس لگاتار کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، اور دوسری طرف اکثر ایسی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں جو کورونا وائرس کے مزید خطرناک ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں یا پھر انفیکشن کے نئے راستوں کا پتہ دے رہے ہیں۔ اب ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ آنسو کے ذریعہ بھی کورونا انفیکشن ایک شخص سے دوسرے شخص تک پہنچ سکتا ہے۔

امرتسر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج نے ایک تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ ’اوکیولر مینی فسٹیشنز‘ کے ساتھ اور اس کے بغیر والے مریضوں کے آنسو کووڈ-19 انفیکشن کا ایک ممکنہ ذریعہ ہو سکتا ہے۔ آکیولر مینی فسٹیشن کا مطلب ہے جس میں ہونے والے کسی مرض کی وجہ سے آنکھ پر پڑنے والا اثر یا بیماری۔ حالانکہ اب بھی کورونا کے پھیلنے کا اہم ذریعہ سانس لیتے وقت ناک میں پہنچنے والے چھوٹے چھوٹے ڈراپلیٹس ہی ہیں۔


بہر حال، تازہ تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ سانس کے علاوہ کچھ دیگر ذرائع سے بھی کورونا کے پھیلنے کے خطرے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تحقیق کے مطابق پازیٹو مریضوں کے آنسوؤں میں کووڈ-19 کی موجودگی کا جائزہ اور موازنہ کیا گیا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج نے 120 کورونا مریضوں پر تحقیق کی، ان میں سے 60 کو آکیولر مینی فسٹیشن تھا اور 60 کو نہیں تھا۔ 41 مریضوں کو کنجکٹائیول ہائپریمیا، 38 کو فولیکولر ریکشن، 35 کو کیموسس، 20 کو میوکوئڈ ڈسچارج اور 11 کو ایچنگ کی دقت تھی۔ تقریباً 37 فیصد شرکاء میں آکیولر مینی فسٹیشن کے ساتھ ہلکا کووڈ-19 انفیکشن تھا، جب کہ تقریباً 63 فیصد کو سنگین انفیکشن تھا۔ دوسرے گروپ میں تقریباً 52 فیصد مریضوں کو ہلکی بیماری تھی اور 48 فیصد سے زیادہ کو سنگین بیماری تھی۔

اس تحقیق کے لیے مریض کی آر ٹی پی سی آر رپورٹ آنے سے 48 گھنٹوں کے اندر آنسو کے نمونے لیے گئے۔ آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ کو کورونا کے لیے سب سے بہتر ٹیسٹ مانا جاتا ہے۔ کل ملا کر 120 میں سے 21 مریضوں کے آنسو آر ٹی پی سی آر میں کورونا پازیٹو تھے۔ ان میں سے 11 مریضوں کو آکیولر مینی فسٹیشنز تھا، جب کہ 10 کو ایسی کوئی دقت نہیں تھی۔


ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر پریم پال کور، ڈاکٹر گورانگ سہگل، ڈاکٹر شیل پریت، کے ڈی سنگھ اور بھاوکرن سنگھ کے ذریعہ کی گئی اس تحقیق میں پایا گیا کہ آنسو دیکھ بھال میں لگے میڈیکل اسٹاف کے لیے انفیکشن کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔ تحقیق کے نتائج کے بعد ایسی ڈیوٹی کر رہے لوگوں سے مزید احتیاط برتنے کو کہا گیا۔ خصوصی طور پر ماہر چشم (آنکھوں کے ڈاکٹر) کو زیادہ احتیاط کی صلاح دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔