دہلی یونیورسٹی: ٹیچروں کو مستقل کرنے کے حق میں احتجاجی ریلی

دہلی یونیورسٹی کی اکاڈمک کونسل نے ٹیچروں کی سخت مخالفت کے باوجود کانٹرکٹ پر ٹیچروں کی تقرری کے التزام کو منظوری دے دی، جس کے خلاف سیکڑوں ٹیچر سڑک پر اتر آئے اور لمبی ریلی نکالی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

جسٹن صدیقی

دہلی یونیورسٹی کے ٹیچر حضرات نے آج پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگائے۔ احتجاج کر رہے ان ٹیچروں کو جنتر منتر پر روک لیا گیا جہاں انہوں نے اپنی گرفتاری دی۔ ہندوستان میں ٹیچر حضرات کا سب سے اعلی مقام ہے کیونکہ وہ ملک کے مستقبل کی ذہنی تربیت کرتے ہیں لیکن آج جنتر منتر پر انہی ٹیچروں پر پولیس نے لاٹھیاں برسائیں۔

اس موقع پر پریشان حال ٹیچروں کی دل کی آواز نے جو نعروں کی شکل لی وہ کچھ اس طرح تھی’’یونیورسٹی ہماری ۔آپکی ، نہیں کسی کے باپ کی‘‘ اور گلی گلی میں شور ہے، چوکیدار چور ہے‘‘۔ وزیر اعظم سے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ٹیچر بلند آواز میں نعرے لگا رہے تھے ’’نریندر مودی شرم کرو‘‘۔

دہلی یونیورسٹی کی اکاڈمک کونسل نےبدھ کی آدھی رات کے بعد ٹیچروں کی سخت مخالفت کے باوجود کانٹرکٹ پر ٹیچروں کی تقرری کے التزام کو منظوری دے دی ہے۔ اس کے خلاف سیکڑوں ٹیچرجمعرات کو سڑک پراتر آئے اور انہوں نے لمبی ریلی نکالی۔

کونسل کے رکن اور دہلی یونیورسٹی میں کامرس کے پروفیسر پردیپ کمار نے یواین آئی کو بتایا کہ بدھ کی صبح 11 بجے سے شروع ہوئے اکاڈمک کونسل کی میٹنگ رات ایک بجے تک چلی۔ اس میٹنگ میں سبھی منتخب اراکین نے اس تجویز کی جم کر مخالفت کی اور ہم لوگ ویل میں بھی بیٹھے رہے۔ جب تجویز پاس ہوئی تو ہم لوگوں نے اس کے خلاف واک آؤٹ بھی کیا۔

ٹیچروں کی لیڈر اور مرانڈا ہاؤس میں طبیعیات کی پروفیسر آبھا دیو حبیب نے کہا کہ اب 18 تاریخ کو ایگزیکٹیو کونسل کی میٹنگ ہے جس میں اگر اس تجویز کو منظوری مل گئی تو ہماری یونیورسٹی میں کانٹرکٹ پر ٹیچروں کی تقرری کی روایت شروع ہوجائے گی۔ جس کی مخالفت میں ہمیں آج سڑکوں پر اترنا پڑا۔

دہلی یونیورسٹی: ٹیچروں کو مستقل کرنے کے حق میں احتجاجی ریلی

دہلی یونیورسٹی ٹیچر ایسوسی ایشن (ڈوٹا) کے صدر راجیو رے نے بتایا کہ رام لیلا میدان سے 12 بجے جلوس نکلنے کے بعد پولس نے تین مقامات پر ہمیں روکنے کی کوشش کی لیکن سیکڑوں ٹیچروں کی مخالفت کے آگے پولس کو جھکنا پڑا اور ہمارا جلوس جنتر منتر پر کامیابی کےساتھ پہنچا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیچروں میں کانٹرکٹ کی تقرری کی تجویز پر کتنا غصہ ہے۔

سیکڑوں کی تعداد میں ٹیچروں نے ہاتھ میں تختیاں اور بینر لیے ہوئے تھے اور نعرے لگاتے ہوئے وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ ڈوٹا کے ٹیچروں نے بدھ کو بھی ہڑتال کی تھی اور وہ جمعرات اور جمعہ کو بھی اپنی ہڑتال جاری رکھیں گے۔ اس دوران این ڈی ٹی ایف کے لیڈر اور دہلی یونیورسٹی کے ایگزیکٹیو کونسل کے ایک رکن نے انسانی وسائل ترقی کے وزیر پرکاش جاوڈیکر کو خط لکھ کر کانٹرکٹ پر ٹیچروں کی تقرری کی تجویز سے پیدا ہوئے شبہ اور تنازعہ کو سلجھانے کےمعاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔

ڈوٹا کے سابق صدر اوراکاڈمکس فار ایکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیڈر آدتیہ نارائن نے کہا کہ ہم ایڈہاک ٹیچروں کو مستقل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حکومت کانٹرکٹ پر ٹیچروں کی تقرری کر رہی ہے۔ ہماری لڑائی جاری رہے گی۔ دہلی یونیورسٹی انسانی وسائل ترقی کی وزارت اور یو جی سی کے دباؤ میں آکر یہ قدم اٹھا رہی ہے۔

رام لیلا میدان سے سیکڑوں کی تعداد میں ٹیچرہاتھوں میں تختیاں اور بینر لئے نعرے لگاتے ہوئے تقریباً ایک بجے جنترمنتر پہنچے۔ وہ وہاں کانٹرکٹ پر تقرری بند کرو اور مودی حکومت ہائے ہائے، جاوڈیکر مردہ آباد کے نعرے لگا رہے تھے۔ ڈوٹا کے ٹیچروں نے کانٹرکٹ پر تقرری کے خلاف کل بھی ہڑتال کی تھی اور کل بھی وہ ہڑتال پر رہیں گے۔

دہلی یونیورسٹی: ٹیچروں کو مستقل کرنے کے حق میں احتجاجی ریلی

اسی دوران نیو ڈیموکریٹک ٹیچرس فرنٹ کے لیڈر اور دہلی یونیورسٹی کی ایگزیکٹیو کونسل کے رکن اے کے بھاگی نے انسانی وسائل اور ترقی کے وزیر پرکاش جاوڈیکر کو خط لکھ کر ٹیچروں کی تقرری کی تجویز سے پیدا شبہ اور تنازعہ کو سلجھانے کے لئے معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس طویل ریلی میں بھاگی بھی موجود رہے۔

اکاڈمک فار ایکشن اینڈ ڈیولپمنٹ کے لیڈر راجیش جھا نے یواین آئی سے کہا کہ وائس چانسلر وائی کے تیاگی نے ہماری مخالفت کے باوجود یونیورسٹی میں کانٹرکٹ پر ٹیچروں کی تقرری سے متعلق یو جی سی ایکٹ 2018 کو پاس کروا دیا۔ ہمارے پانچ ساتھیوں نے اس فیصلے کے خلاف اپنا مزاحمتی خط دیا ہے۔

جھا نے کہا کہ دہلی یونیورسٹی میں کئی برسوں سے 4000 سے زیادہ ایڈہاک ٹیچر پڑھا رہے ہیں لیکن انہیں مستقل کرنے کی جگہ یونیورسٹی میں کانٹرکٹ پر ٹیچروں کی تقرری کا قانون بنا دیا گیا جبکہ یونیورسٹی کے آرڈینینس میں اس کا کوئی التزام نہیں ہے۔ یہ یونیورسٹی کی خود مختاری پر حملہ ہے۔ ہم ٹیچروں پر ضابطہ اخلاق نافذ کرنے کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ان ٹیچروں کو مستقل کرنے کا ہے۔ ٹیچروں کو کانٹرکٹ پر رکھنے سے کئی طرح کی دقتیں پیدا ہوں گی۔

تمام تصاویر یو این آئی

(یو این آئی کے انپٹ کے ساتھ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 17 Jan 2019, 6:09 PM