دہلی میں تین لوگوں کے قتل معاملے میں فیروز آباد کا ملزم تانترک قمر الدین بابا گرفتار!
دہلی میں تین لوگوں کے قتل کے معاملے میں شواہد اکٹھے کرنے کے لیے دہلی پولیس تانترک قمر الدین بابا کو گرفتارکرکے فیروز آباد لے آئی ہے۔

دہلی کے پیر گڑھی علاقے میں تین لوگوں کے قتل کے معاملے میں دہلی پولیس گرفتار فیروز آباد کے قریب رام گڑھ میں رہنے والے تانترک قمر الدین بابا کو ثبوت اکٹھا کرنے کے لیے فیروز آباد لے آئی۔ دہلی پولیس پہلے قمرالدین کو رام گڑھ تھانے لے گئی۔ قمرالدین کی آمد کے بعد اسے رام گڑھ پولیس کے ساتھ اس کے گھر لے جایا گیا، جہاں پولیس نے اس کے گھر کے اندر جاکر شواہد اکٹھے کئے۔
اس کے بعد قمرالدین کو بسائی محمد پور تھانے میں واقع ایک مزار پر لے جایا گیا، جہاں قمرالدین لوگوں کو تانترک رسومات کے لیے لے جاتا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اسی جگہ قمر الدین نے تانترک کی رسم ادا کی تھی۔ صوفی پور مزار کے بعد دہلی پولیس قمرالدین کو ضلع اسپتال لے گئی، جہاں دہلی پولیس نے طبی معائنہ کیا۔
گرفتار تانترک قمر الدین کا تعلق فیروز آباد سے ہے۔ فیروز آباد کے رام گڑھ تھانہ علاقہ کے رہنے والے قمر الدین نے اپنے تانترک منتر اور لالچ سے دو لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایکا تھانہ علاقہ کے رہنے والے رام ناتھ اور اتر تھانہ علاقہ کے رہنے والے پورن سنگھ کی موت 8 مئی 2025 کو ہوئی تھی۔
بتایا گیا ہے کہ دونوں کی لاشیں فیروز آباد کے تھانہ مکھن پور کی حدود میں بند شیشے کی فیکٹری کے سامنے واقع مزار کے قریب سے ملی ہیں۔ لاشوں کے قریب سے لڈو، پانی کے گلاس، لیموں اور تانترک رسومات سے متعلق دیگر سامان برآمد ہوا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ رام ناتھ اور پورن سنگھ کی موت زہر پینے سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق، قمرالدین نے رام ناتھ اور پورن سنگھ کو تانترک رسم ادا کرنے کے بعد دفن شدہ خزانہ تلاش کرنے کے بارے میں بتایا تھا۔ لالچ میں آکر، وہ قمرالدین کے تانترک منتروں کا شکار ہو گئے اور زہر آلود لڈو کھا لیے، جس سے ان کی موت ہو گئی۔ پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کے لیے اکسانے کا مقدمہ درج کیا تھا تاہم تفتیش کے بعد ملزم قمرالدین کے خلاف قتل کی سازش کے الزامات شامل کیے گئے۔
جب مقامی لوگوں سے رام گڑھ تھانہ علاقے کے آکاشوانی روڈ پر واقع قمر الدین کے گھر کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی تو انہوں نے اسے ایک سادہ آدمی بتایا۔ دور دراز کے لوگ تانترک رسومات کے لیے اس کے گھر آتے تھے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔