تمل ناڈو: 108 سیٹیں حاصل کرنے والی وجئے کی پارٹی کو حکومت سازی کے لیے چاہئیں مزید 10 سیٹیں، کون دے گا ساتھ؟

سیاسی ماہرین کے مطابق کانگریس (5 سیٹیں) کے علاوہ بایاں محاذ پارٹیاں (4 سیٹیں) اور وی سی کے (2 سیٹیں) کی حمایت حاصل کرنا وجئے کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>تھلاپتی وجئے (فائل) تصویر&nbsp;<a href="https://twitter.com/blakeninjaa">@blakeninjaa</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

تمل ناڈو کی سیاست نے میں ایک نئے سورج کا طلوع ہو چکا ہے۔ اپنی اداکاری سے لوگوں کا دل جیتنے والے تھلاپتی وجئے کی پارٹی ’تملگا ویتری کژگم‘ (ٹی وی کے) نے اسمبلی انتخاب میں 108 سیٹیں حاصل کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا سہرا حاصل کر لیا ہے، یعنی حکومت سازی کے لیے راہ ہموار ہو چکی ہے۔ لیکن 234 رکنی اسمبلی والی اس ریاست میں حکومت سازی کے لیے 118 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ گویا کہ وجئے کی پارٹی ابھی حکومت سازی کے لیے ضروری ’جادوئی نمبر‘ سے 10 سیٹیں پیچھے ہے۔

ایسے میں سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ٹی وی کے کو کن پارٹیوں یا کامیاب امیدواروں کا ساتھ مل سکتا ہے؟ تمل ناڈو کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد جو حالات بنے ہیں، وجئے کو حکومت سازی میں کچھ خاص مشکل پیش نہیں آنی چاہئیں۔ ایسا اس لیے کیونکہ کانگریس (جس نے تمل ناڈو میں 5 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے) کے مقامی لیڈران نے پہلے ہی ٹی وی کے کو حمایت دینے کا اشارہ دے دیا ہے۔ انتظار اب صرف کانگریس کی اعلیٰ قیادت کے بیان کا ہے۔ چونکہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے تھلاپتی وجئے سے بات کر انھیں کامیابی کے لیے مبارکباد پیش کر دی ہے، اس لیے سیاسی ماہرین کانگریس کی حمایت یقینی ہی مان رہے ہیں۔


دیگر پارٹیوں کی بات کریں تو ڈی ایم کے اتحاد میں شامل کانگریس کے علاوہ بایاں محاذ پارٹیاں (4 سیٹیں) اور وی سی کے (2 سیٹیں) کی حمایت حاصل کرنا بھی وجئے کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد میں شامل پی ایم کے (4 سیٹیں) کا ساتھ بھی وجئے کو مل سکتا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو حکومت سازی کے لیے ضروری 118 سیٹیں ملنے میں زیادہ دقت ہوتی ہوئی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ پی ایم کے کو چھوڑ دیا جائے، تو بھی کانگریس، بایاں محاذ اور وی سی کے کا تعاون ملنے پر سیٹوں کی مجموعی تعداد 119 ہو جاتی ہے۔ سیاسی ماہرین تو کچھ اسی طرح کا فارمولہ تمل ناڈو میں تیار کر رہے ہیں۔ اب دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ حکومت سازی کے لیے حقیقی معنوں میں کون سا فارمولہ اختیار کیا جاتا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔