تمل ناڈو: سبھی کی نظریں آج ہونے والی 3 میٹنگوں پر، کیا ہموار ہو پائے گا وجئے کی حلف برداری کا راستہ؟

ٹی وی کے کو فی الحال صرف کانگریس کی حمایت مل سکی ہے، جس کے 5 اراکین اسمبلی ہیں۔ ٹی وی کے کو حاصل 108 سیٹوں میں اگر ان 5 سیٹوں کو جوڑ دیں تو 113 ہوتے ہیں، جو کہ 118 کے جادوئی نمبر سے 5 کم ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تھلاپتی وجئے، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

تمل ناڈو میں وجئے کی پارٹی ’ٹی وی کے‘ (تملگا ویتری کژگم) اسمبلی انتخاب میں بھلے ہی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، لیکن اکثریت سے 10 سیٹیں پیچھے رہنے کے سبب الجھنیں بڑھ گئی ہیں۔ وجئے نے 6 اور 7 مئی کو گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر سے مل کر حکومت سازی کا دعویٰ ضرور پیش کیا، لیکن اکثریت کے لیے ضروری نمبر ثابت کرنے کا حوالہ دے کر انھیں وزیر اعلیٰ بننے سے روک دیا گیا ہے۔ اب سبھی کی نظریں آج ہونے والی 3 میٹنگوں پر ہے، کیونکہ یہی میٹنگیں وجئے کی حلف برداری کا راستہ ہموار کر سکتی ہیں۔

دراصل وجئے کی پارٹی ٹی وی کے کو ابھی تک آفیشیل طور پر صرف کانگریس کی حمایت ہی مل سکی ہے، جس کے 5 اراکین اسمبلی ہیں۔ ٹی وی کے کو حاصل 108 سیٹوں میں اگر ان 5 سیٹوں کو جوڑ دیں تو 113 ہوتے ہیں، جو کہ اکثریت ثابت کرنے کے لیے ضروری 118 کے جادوئی نمبر سے 5 پیچھے ہے۔ کم ہو رہی 5 سیٹوں کا ہی دار و مدار آج ہونے والی 3 الگ الگ پارٹیوں پر ہے۔ میٹنگ کرنے والی یہ پارٹیاں ہیں سی پی آئی، سی پی ایم اور وی سی کے۔


قابل ذکر ہے کہ سی پی آئی، سی پی ایم اور وی سی کے تینوں ہی پارٹیوں کے پاس 2-2 اراکین اسمبلی ہیں۔ اگر یہ تینوں پارٹیاں وجئے کی حمایت کے لیے راضی ہو گئے تو فوری طور پر مزید کسی کی حمایت نہیں چاہیے ہوگی۔ وجئے کی حلف برداری کے لیے فی الحال ان 3 پارٹیوں کی حمایت ہی کافی ہے۔ بعد میں کچھ دیگر پارٹیوں کے ساتھ بھی بات چیت کر کے وجئے اپنی مضبوطی کو بڑھا سکتے ہیں۔ ویسے ٹی وی کے نے وی سی کے، سی پی آئی، سی پی ایم کے علاوہ آئی یو ایم ایل سے بھی حمایت دینے کی گزارش کی ہے۔ آئی یو ایم ایل کے پاس بھی 2 سیٹیں ہیں، اور یہ بھی کانگریس، وی سی کے، سی پی آئی، سی پی ایم کے ساتھ یو ڈی ایف کا حصہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بایاں محاذ پارٹیوں اور وی سی کے نے بھلے ہی آفیشیل طور پر وجئے کو ابھی تک حمایت نہیں دی ہے، لیکن یہ پارٹیاں چاہتی تھیں کہ وجئے کی حلف برداری کے بعد اطمینان سے اس معاملہ میں بات چیت کریں۔ لیکن اب جبکہ گورنر نے وجئے کو صاف لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ پہلے ضروری نمبر ثابت کریں، تو ایسی صورت میں ان تینوں ہی پارٹیوں نے 8 مئی کو میٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں حمایت سے متعلق تبادلۂ خیال ہونا ہے۔ سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری شنموگم نے میٹنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی حالات کا جائزہ لے گی اور 8 مئی کو میٹنگ میں ٹی وی کے کی حمایت سے متعلق غور کرے گی۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری ویرپانڈین نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ حمایت کے بارے میں جمعہ کو فیصلہ لیے جانے کا امکان ہے۔ وی سی کے کی بات کریں، تو پارٹی کے سرکردہ لیڈر تھول تھیروماولون کا کہنا ہے کہ ٹی وی کے کو حمایت دینے سے متعلق بایاں محاذ کا فیصلہ دیکھنے کے بعد ہی اپنا رخ واضح کریں گے۔ اس بارے میں ان کی پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ہونے والی ہے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں ہی پارٹیوں نے گورنر کی اس بارے میں مذمت کی ہے کہ وجئے کو اب تک حکومت سازی کی دعوت نہیں دی گئی۔ سی پی ایم جنرل سکریٹری ایم اے بے بی نے تمل ناڈو کے گورنر راجندر وشوناتھ آرلیکر سے اپیل کی ہے کہ جمہوری روایت پر عمل کرتے ہوئے ٹی وی کے کو حکومت سازی کی دعوت دی جائے۔ انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ ٹی وی کے سہ رخی اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی ہے، اس لیے انھیں حکومت سازی کے لیے مدعو کیا جانا چاہیے۔ حالانکہ گورنر نے اپنا رخ واضح کر دیا ہے، اور اب ٹی وی کے کو ضروری جادوئی نمبر ثابت کرنے کے بعد ہی حکومت سازی کا موقع مل پائے گا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔