تمل ناڈو: اے آئی اے ڈی ایم کے کو پھر لگا دھچکا، رکن اسمبلی ایساکی سُبایا نے بھی دیا استعفیٰ

2 دنوں کے اندر اے آئی اے ڈی ایم کے سے منسلک 4 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس سے ریاست میں کئی اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ایساکی سُبایا، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

تمل ناڈو میں ’تملگا ویتری کژگم‘ (ٹی وی کے) کے سربراہ وجے تھلاپتی کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ریاست میں سیاسی ہلچل کا سلسلہ جاری ہے۔ سب سے زیادہ اتھل پتھل اے آئی اے ڈی ایم کے میں مچی ہوئی ہے، جس کے چوتھے رکن اسمبلی ایساکی سُبایا نے بھی پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ سُبایا نے منگل (26 مئی) کو تمل ناڈو اسمبلی کے اسپیکر سے ملاقات کر اور اپنا استعفیٰ نامہ انھیں پیش کر دیا۔

2 دنوں کے اندر اے آئی اے ڈی ایم کے کے 4 اراکین اسمبلی نے یکے بعد دیگرے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ریاست میں ایک الگ حالات پیدا ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ لگاتار سیاسی وفاداریاں بدلنے کے سبب ریاست میں کئی اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ سُبایا ان باغی اراکین اسمبلی میں شامل تھے جنہوں نے ریاست کے سابق وزراء سی وی شنموگم اور ایس پی ویلومنی کی حمایت کی تھی اور 13 مئی کو اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کے دوران تملگا ویتری کژگم حکومت کے حق میں ووٹ دیا تھا۔


قابل ذکر ہے کہ 25 مئی کو اے آئی اے ڈی ایم کے سے منسلک 3 اراکین اسمبلی نے اپنی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا اور حکمراں جماعت ٹی وی کے میں شامل ہو گئے تھے۔ استعفیٰ دینے والے اراکین اسمبلی میں مارگتھم کمارویل، پی ستیہ بھاما اور ایس جے کمار شامل تھے۔ استعفیٰ کے بعد ان تینوں نے ٹی وی کے کا دامن تھام لیا۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ ضمنی انتخابات میں پارٹی کے انتخابی نشان پر مقابلہ کرنے کے لیے ان تینوں کو ٹی وی کے کا ٹکٹ دیا جا سکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ جوزف وجے کی قیادت والی ٹی وی کے نے 233 نشستوں پر انتخاب لڑا تھا اور ابتدائی نتائج میں 107 نشستیں حاصل کی تھیں، جس کے بعد وجے نے تروچی مشرقی نشست خالی کر دی تھی۔ اگرچہ پارٹی حکومت بنانے کے لیے ضروری 118 نشستوں کے اکثریتی ہندسے تک نہیں پہنچ سکی تھی، تاہم اسے دیگر پارٹیوں کی حمایت حاصل ہو گئی۔ کانگریس نے ٹی وی کے کی حمایت کرتے ہوئے حکومت میں شمولیت اختیار کی اور اسے 2 وزارتیں دی گئیں۔ وی سی کے اور آئی یو ایم ایل سمیت دیگر پارٹیاں بھی ٹی وی کے کی قیادت والی حکومت کا حصہ بن گئیں، جبکہ سی پی آئی اور سی پی آئی (ایم) نے حکومت میں شامل ہوئے بغیر غیر مشروط حمایت فراہم کی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔