رام مندر کے نزدیک مسجد تعمیر ہوئی تو ہندو ہو جائیں گے مشتعل: اوما بھارتی

مرکزی وزیر اوما بھارتی نے رام مندر کے اندرونی احاطہ میں ہی نہیں بلکہ باہری احاطہ میں بھی مسجد تعمیر کی باتوں سے گریز کرنے کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو ہندو طبقہ مشتعل ہو جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مودی کابینہ میں وزیر اوما بھارتی نے بابری مسجد کے تعلق سے ایک انتہائی متنازعہ بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر رام مندر کے آس پاس کسی مسجد کی تعمیر ہوئی تو اس سے ہندوؤں کے جذبات بھڑک سکتے ہیں اور وہ اس عمل سے مشتعل ہو جائیں گے۔ یہ بات انھوں نے 4 نومبر کو پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔

بات چیت کے دوران اوما بھارتی نے کہا کہ دنیا میں ہندو سب سے زیادہ صبر اور برداشت کرنے والے ہیں، لیکن ایودھیا میں رام مندر کے احاطہ میں مسجد تعمیر کی بات ہوئی تو یہ کبھی قابل برداشت نہیں ہوگا اور یہ بات ہندوؤں کو مشتعل کر سکتی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سبھی سیاستدانوں سے اپیل کی کہ وہ بھگوان رام کی پیدائش کی جگہ کے باہری دائرے میں بھی کسی مسجد تعمیر کی بات نہ کریں اور ہندوؤں کو مشتعل کرنے سے بچیں۔

اوما بھارتی نے ایودھیا معاملہ کو عقیدت کا نہیں بلکہ زمین کا تنازعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ کا حل عدالت کے باہر ہی نکالا جانا چاہیے۔ اس کے لیے انھوں نے کانگریس صدر راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو، بی ایس پی لیڈر مایاوتی اور ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی سمیت سبھی سیاسی لیڈروں سے اس کی حمایت کرنے کی اپیل بھی کی۔ سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ’’ہمیں اس ایشو پر سبھی سیاسی پارٹیوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔ میں راہل گاندھی سمیت سبھی لیڈروں کو مدعو کرتی ہوں کہ وہ میرےس اتھ رام مندر کی سنگ بنیاد کے لیے آئیں۔‘‘

Published: 5 Nov 2018, 10:09 PM
next