منریگا اجرت معاملے میں سوراج ابھیان نے سپریم کورٹ میں دائر کی عرضی

عرضی میں منریگا کے لیے مناسب فنڈز، اگلے تیس دنوں کے اندر تمام زیر التواء اجرت کی ادائیگی، فی خاندان کو 50 دنوں کے کام کا اضافی حق فراہم کرنے کے علاوہ دیگر مسائل پر ہدایت جاری کرنے کی استدعا کی گئی۔

سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
user

یو این آئی

نئی دہلی: مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کے مزدوروں کو بقایا اجرت ادا کرنے کے مطالبے اور اس کے بجٹ میں بھاری کمی کرنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کے مدِ نظر مزدوروں کے سامنے ممکنہ سنگین بحران کے سلسلے میں سوراج ابھیان کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے، سینئر ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن کے ذریعہ دائر ایک عرضی میں غیر سرکاری تنظیم ’سوراج ابھیان‘ نے عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منریگا کے نفاذ کے لئے حکومت کو ہدایت دے۔ اس رضاکارانہ تنظیم میں سوراج انڈیا کے سربراہ یوگیندر یادو اور کئی ممتاز سماجی کارکن، صحافی اور وکیل وغیرہ شامل ہیں۔

پیشہ سے وکیل سوراج ابھیان کے جنرل سکریٹری اویک ساہا کی عرضی میں منریگا کے لیے مناسب فنڈز کو یقینی بنانے، آگلے تیس دنوں کے اندر تمام زیر التواء اجرت کی ادائیگی، فی خاندان کو 50 دنوں کے کام کا اضافی حق فراہم کرنے کے علاوہ دیگر مسائل پر ہدایت جاری کرنے کی اسدعا کی گئی۔ عرضی گزار نے میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے دستیاب اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے مفاد عامہ کی اس عرضی پر جلد از جلد سماعت کی بھی سپریم کورٹ سے درخواست کی۔


عرضی میں ’سوراج ابھیان‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ کروڑوں مزدوروں کی اجرت مرکزی حکومت کی جانب سے فنڈز کی ناکافی الاٹمنٹ کی وجہ سے زیرالتوا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ کووڈ- 19 وبا اور مرکزی حکومت کے مبینہ غیر منصوبہ بند لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک بھر میں کروڑوں منریگا مزدوروں نے اپنی روزی روٹی کھودی تھی۔ عرضی گزار نے یہ بھی الزام لگایا کہ بدقسمتی سے حکومت نے سب سے زیادہ کمزور طبقوں کی مدد کرنے کے بجائے منریگا کے لیے مختص بجٹ میں نمایاں کمی کر دی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔