سپریم کورٹ کی کمیٹی پر شبہ! جانیے راہل گاندھی سے لے کر راکیش ٹکیت تک کس نے کیا کہا

کمیٹی میں شامل بھوپندر مان، انل گھنوٹ، اشوک گلاٹی اور پرمود جوشی کے گزشتہ بیانات جو زرعی قوانین کی حمایت میں سامنے آئے ہیں، وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔

کسان تحریک / آئی اے این ایس
کسان تحریک / آئی اے این ایس
user

تنویر

کسانوں کی پریشانی کا حل نکالنے کے لیے سپریم کورٹ نے چار رکنی کمیٹی تو تشکیل دے دی، لیکن جیسے ہی کمیٹی میں شامل اراکین کے نام سامنے آئے اپوزیشن لیڈران سے لے کر کسان لیڈروں تک کے بیان یکے بعد دیگرے آنے لگے جس میں کہا جانے لگا کہ آخر ان لوگوں سے انصاف کی امید کیسے کی جا سکتی ہے جنھوں نے قانون کی حمایت میں پہلے ہی آواز بلند کر رکھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیٹی میں شامل چاروں ہی اراکین نے متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ نہ کیے جانے کی حق میں بیانات دیے ہیں۔

کمیٹی میں جن چار لوگوں کو سپریم کورٹ نے شامل کیا ہے ان کے نام ہیں بھوپندر مان، انل گھنوٹ، اشوک گلاٹی اور پرمود جوشی۔ ان سبھی کے گزشتہ بیانات جو زرعی قوانین کی حمایت میں سامنے آئے ہیں، وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن لیڈران کے ساتھ ساتھ کسان لیڈروں نے بھی اس کمیٹی پر انگلی اٹھانی شروع کر دی ہے اور کسان تنظیموں نے تو اس کمیٹی کو ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ آئیے یہاں دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کی کمیٹی میں شامل اراکین کے تعلق سے کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی سے لے کر کسان لیڈر راکیش ٹکیت جیسی ہستیوں نے کیا رد عمل دیا۔

راہل گاندھی:

کیا زراعت مخالف قوانین کی تحریری حمایت کرنے والے اشخاص سے انصاف کی امید کی جا سکتی ہے؟ یہ جدوجہد کسان-مزدور مخالف قوانین کے ختم ہونے تک جاری رہے گی۔ جے جوان، جے کسان۔

پی چدمبرم:

سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’سپریم کورٹ کے ذریعہ کسانوں کی مخالفت پر ظاہر کی گئی فکر، ایک ضدی حکومت کے ذریعہ پیدا کی گئی حالت پر مناسب اور قابل قدر ہے۔ مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ اچھا ہے۔ حالانکہ چار اراکین پر مبنی کمیٹی کی تشکیل پیچیدہ اور متضاد اشارے دیتی ہے۔‘‘

راکیش ٹکیت:

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے بھی سپریم کورٹ کے ذریعہ کمیٹی بنائے جانے کے بعد مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ کمیٹی میں شامل سبھی اراکین کھلے بازار اور متنازعہ قوانین کے حامی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کمیٹی کی تشکیل سے کسان مایوس ہیں۔

بلبیر سنگھ راجیوال:

کسان لیڈر بلبیر سنگھ راجیوال نے میڈیا کے سامنے بیان دیا ہے کہ ’’حکومت اپنے اوپر سے دباؤ کم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے ذریعہ کمیٹی لے آئی ہے، اس کی ہم نے کل ہی مخالفت کی تھی۔ ہم بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر کمیٹی کو نہیں مانتے ہیں۔ کمیٹی کے سبھی اراکین قوانین کو صحیح ٹھہراتے رہے ہیں۔‘‘

رندیپ سرجے والا:

سپریم کورٹ نے آج کسانوں سے بات چیت کے لیے 4 اراکین کی کمیٹی بنائی ہے۔ کمیٹی میں شامل چار لوگوں نے عوامی طور پر پہلے سے ہی فیصلہ کر رکھا ہے کہ یہ سیاہ قوانین درست ہیں، اور کہہ دیا ہے کہ کسان بھٹکے ہوئے ہیں۔ ایسی کمیٹی کسانوں کے ساتھ انصاف کیسے کرے گی؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next