بیوی-بچہ کو ٹھیلے پر لاد کر بہار پہنچا مہاجر مزدور، کہا ’اب کبھی دہلی نہیں جاؤں گا‘

کورونا بحران کے پیش نظر حکومت نے بھلے ہی مہاجر مزدوروں کے لیے خصوصی ٹرینوں کا انتظام کر دیا ہو، لیکن مزدوروں کے کئی ایسے مسائل ہیں جن کی طرف کسی کی ابھی توجہ بھی نہیں گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا انفیکشن پر قابو پانے کے لیے لاک ڈاؤن کا نفاذ تو کر دیا گیا، لیکن اس کے لیے پہلے سے کوئی تیاری نہیں کی گئی جس کے سبب مہاجر مزدوروں کو بے پناہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حکومت نے کافی تَاخیر سے بھلے ہی مہاجر مزدوروں کے لیے خصوصی ٹرینوں کا انتظام کر دیا ہو، لیکن کئی ایسے مسائل مزدوروں کے ہیں جن کی طرف ابھی تک کسی نے توجہ ہی نہیں دی ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی ہو یا تجارتی راجدھانی ممبئی ہو، راجستھان ہو یا پنجاب، روزی روٹی کی تلاش میں گئے مہاجر مزدوروں کا واپس اپنی گاؤں کی طرف لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی پیدل گاؤں کی طرف بڑھ رہا ہے، کوئی سائیکل سے نکل پڑا ہے تو کوئی ٹھیلے پر سامان لادے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ کئی دردناک کہانیاں ہیں جو سڑکوں پر بکھری پڑی ہوئی ہیں اور وقتاً فوقتاً اخبارات میں جگہ بھی پا رہی ہیں۔

ایسی ہی ایک کہانی ہے دہلی میں مزدوری کر کے اپنی بیوی-بچوں کا پیٹ پال رہے سریندر کی۔ دہلی سے تقریباً 1100 کلو میٹر کی دوری ٹھیلے سے طے کر پہنچے سمستی پور کے سریندر پاسوان کی حالت دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ اسے دہلی میں اپنی 'گرہستی' اجڑنے کا غم تو ہے، لیکن مستقبل سنوارنے کے لیے اپنے گھر کی طرف رخ کرنا مجبوری تھی۔ وہ ٹھیلے پر سارا گھریلو سامان لاد کر دہلی سے نکلا اور ٹھیلے پر ہی بیوی-بچوں کو بھی بٹھا لیا۔ ماں کی گود میں بیٹھے چار سال کے معصوم کی پتھرائی آنکھیں ان کے درد کو بخوبی بیان کرتی ہیں۔

بھوکے پیاسے بچے اور بیوی کے ساتھ مجبور سریندر پاسوان اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے ہمت نہیں ہارا۔ بلکہ دن رات ٹھیلہ چلا کر میلوں کا سفر طے کر کے وہ اپنی منزل کے انتہائی قریب پہنچ گیا ہے۔ سرکاری انتظامات بھلے ہی اسے نہ ملے ہوں، لیکن وہ اپنے جذبے کے ساتھ ٹھیلے کا پیڈل چلاتے ہوئے سمستی پور کے لیے نکل پڑا۔

خبر رساں ایجنسی 'آئی اے این ایس' نے سریندر کے تعلق سے ایک رپورٹ دی ہے جس میں سریندر پاسوان کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ "لاک ڈاؤن کی وجہ سے کھانے پینے کا بہت مسئلہ ہو رہا تھا۔ پیسے بھی نہیں تھے۔ کسی طرح سے پیسے کا انتظام کیا اور ٹھیلہ خریدا۔ فیملی کو لے کر اب بہار کے سمستی پور جا رہا ہوں۔ اب کبھی دوبارہ دہلی نہیں جائیں گے، کیونکہ کبھی آلودگی کو لے کر کمپنی بند ہو جاتی ہے تو کبھی لاک ڈاؤن کی وجہ سے۔"

سریندر پاسوان کا کہنا ہے کہ "کسے شوق ہوتا ہے کہ اپنے گھر کو چھوڑ کر باہر کمانے جائے۔ پوری فیملی مزدوری کرتی ہے۔ پردیس جانا مجبوری ہے۔" سریندر کے چہرے پر کبھی غصے کے آثار نظر آتے ہیں تو کبھی وہ بے بس معلوم پڑنے لگتا ہے۔ وہ اپنی بیوی اور بچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے "آخر یہاں رہیں گے تو کمائیں گے کیا اور انھیں کھلائیں گے کیا؟ حکومت اگر یہیں کام دے تو کیوں کوئی باہر جائے گا۔ آخر محنت کرنی ہے تو کہیں بھی کر سکتے ہیں۔"

سریندر دہلی میں بسے بسائے گھر کو سمیٹ کر ٹھیلہ پر لاد کر اپنے گاؤں کی طرف بڑھ رہا ہے اور ٹھیلہ چلاتے ہوئے اسے پیروں میں زخم بھی ہو گئے ہیں۔ ان زخموں کو دکھاتے ہوئے سریندر کہتا ہے "بیوی اور بچوں کے چہرے پر سوزن ہو گئی ہے جس سے بیماری کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ ٹھیلے پر سائیکل سمیت گھر کا سارا سامان لاد لیا۔ آخر وہاں چھوڑنے کا کیا مطلب۔"

Published: 13 May 2020, 8:40 PM