’صنعت کی تعریف سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ تشویش ناک‘، عدالت کے فیصلے پر جے رام رمیش کا اظہار خیال

جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت کا ’انڈسٹریل رلیشن کوڈ، 2020‘ پہلے ہی مزدوروں کے لیے ضروری حفاظتی دفعات کو کافی حد تک کمزور کرتا ہے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i

کانگریس نے سپریم کورٹ کے ’صنعت‘ کی تعریف سے متعلق حالیہ فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ہفتہ کے روز کہا کہ ایسے وقت میں اس فیصلے سے مزدور تعلقات میں غیر یقینی پیدا ہوئی ہے۔ جے رام رمیش نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت کا ’انڈسٹریل رلیشن کوڈ، 2020‘ پہلے ہی مزدوروں کے لیے ضروری حفاظتی دفعات کو کافی حد تک کمزور کرتا ہے۔ دراصل سپریم کورٹ نے گزشتہ 20 اگست کو 6:3 کی اکثریت سے کہا تھا کہ 1978 کے اپنے فیصلے میں دی گئی مزدور دوست اور وسیع ’صنعت‘ کی تعریف کو صنعتی تعلقات سے متعلق ضابطہ، 2020 کی تشریح کے لیے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

جے رام رمیش نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ اگست 2026 میں اکثریت کا یہ فیصلہ تشویش ناک ہے، کیونکہ یہ ایسے وقت میں مزدور تعلقات میں غیر یقینی پیدا کرتا ہے، جب صنعتی امن کے لیے وضاحت انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی معیشت میں نجی شعبے کے ذریعہ خدمات فراہم کرنے کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے اور ’انڈسٹری‘ کی وسیع تعریف کو محدود کرنے یا قانون کو اس سے دور لے جانے والا کوئی بھی قدم مزدوروں کے تحفظ کو عین ایسے وقت میں کمزور کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے، جب اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے میں فروری 1978 کے تاریخی ’بنگلور واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ‘ بنام اے راجپا معاملے میں طے کی گئی ’3 سطحی کسوٹی‘ کی نئے سرے سے تشریح کرنے کا ایک ’مفروضہ‘ پیش کیا گیا ہے۔


ان کے مطابق 1978 کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے کسی بھی سرگرمی کو ’صنعت‘ ماننے کے لیے 3 اہم عناصر کا تعین کیا تھا۔ یہ عناصر ہیں منظم سرگرمی، آجر اور ملازم کے درمیان تعاون، اور انسانی ضروریات اور خواہشات کو پورا کرنے والی اشیا یا خدمات کی پیداوار یا تقسیم۔ انہوں نے کہا کہ اس کسوٹی کے تحت منافع کمانے کا مقصد ضروری نہیں سمجھا گیا تھا اور فلاحی اداروں اور عوامی اداروں کی سرگرمیاں بھی اس کے دائرے میں آ سکتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 5 دہائیوں تک اس کسوٹی نے وقتاً فوقتاً ترمیم شدہ صنعتی تنازعات ایکٹ، 1947 کے تحت یہ طے کرنے کے لیے ایک جامع اور مستحکم فریم ورک فراہم کیا کہ کسے ’صنعت‘ سمجھا جائے، اور اس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مزدوروں کو لیبر قوانین کا تحفظ حاصل ہوا۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے دعویٰ کیا کہ 2026 کا اکثریتی فیصلہ اس نقطۂ نظر کو 2 اہم طریقوں سے محدود کرتا ہے۔ ان کے مطابق اب کسی سرگرمی میں تجارت یا کاروبار جیسا ’واضح تجارتی کردار‘ ہونے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے، جو پہلے کی کسوٹی میں نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ یہ از سر نو تعریف پرانے صنعتی تنازعات ایکٹ کے تحت مکمل ہو چکی یا زیر التوا کارروائیوں کو متاثر نہیں کرے گی اور نہ ہی یہ نئی صنعتی تعلقات کی ضابطہ بندی کی تشریح طے کرے گی، لیکن فیصلے میں اس ’مفروضے‘ کو چھوڑ دیے جانے سے تشریح کے حوالے سے خلا پیدا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے مقدمات اور غیر یقینی کا ’پنڈورا باکس‘ کھل سکتا ہے، خصوصاً لیبر عدالتوں اور صنعتی ٹریبونلز کے سامنے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صنعتی تعلقات سے متعلق ضابطہ مرکزی حکومت کو اداروں کی مزید اقسام کو اس کے دائرے سے باہر کرنے کا اختیار دیتا ہے، اس لیے عملی طور پر زیادہ محدود تعریف قائم ہونے کی گنجائش برقرار ہے۔ جے رام رمیش نے جسٹس بی وی ناگرتنا کے اختلافی مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بنگلور واٹر سپلائی معاملے میں طے کی گئی 3 سطحی کسوٹی پر نظرثانی کی ضرورت نہیں سمجھی اور عدالتی یقین کے مفاد میں پہلے سے قائم قانون کو غیر مستحکم کرنے سے خبردار کیا۔