یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف احتجاج کے درمیان آج سپریم کورٹ میں ہوگی سماعت

یو جی سی کے نئے ضوابط 2026 کے خلاف دائر عرضیوں پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ ملک گیر احتجاج کے درمیان عدالت یہ طے کرے گی کہ آیا یہ ضوابط آئینی مساوات کے مطابق ہیں یا نہیں

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک بھر میں جاری احتجاج کے دوران یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے نئے ایکویٹی ضوابط 2026 کے خلاف دائر عرضیوں پر آج جمعرات، 29 جنوری کو سپریم کورٹ میں سماعت ہونے جا رہی ہے۔ ان ضوابط کو ان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ سماعت ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب ایک طرف حکومت اور یو جی سی ان ضوابط کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں امتیاز کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب مختلف تنظیمیں، طلبہ گروپس اور سماجی حلقے انہیں جانبدار اور متنازع قرار دے رہے ہیں۔

اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوی مالیا باگچی پر مشتمل بنچ کرے گی۔ سپریم کورٹ کے سامنے اس وقت یو جی سی کے نئے ضوابط کے خلاف مجموعی طور پر تین عرضیاں زیرِ غور ہیں، جن میں ضوابط کی بعض دفعات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں اور انہیں آئین میں دیے گئے مساوات کے اصول سے متصادم بتایا گیا ہے۔

پہلی عرضی سماجی کارکن اور صنعت کار راہل دیوان کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ ان کے وکیل پارتھ یادو نے بدھ کے روز چیف جسٹس کے سامنے اس معاملے کا فوری طور پر ذکر کیا تھا۔ وکیل کی جانب سے دلیل دی گئی کہ موجودہ شکل میں اگر یہ ضوابط نافذ ہوئے تو مساوات کے بجائے ایک نئی قسم کا امتیاز پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے عرضی میں موجود تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ معاملے کو جلد سماعت کے لیے درج کیا جا سکے۔


اس کے علاوہ بنارس ہندو یونیورسٹی کے پوسٹ ڈاکٹورل ریسرچر مرتیونجے تیواری اور وکیل وینیت جندل کی جانب سے بھی الگ الگ عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ ان تمام عرضیوں میں 13 جنوری 2026 کو نوٹیفائی کیے گئے یو جی سی ایکویٹی ضوابط کو چیلنج کیا گیا ہے، جن کے ذریعے سال 2012 کے پرانے ضوابط میں تبدیلی کی گئی ہے۔

عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کے تحت جامعات میں ایکویٹی کمیٹی، ایکول اپرچونٹی سینٹر اور چوبیس گھنٹے ہیلپ لائن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ ان اقدامات کا مقصد درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لیے تحفظی نظام کو مضبوط کرنا بتایا جا رہا ہے، لیکن ناقدین کے مطابق ضوابط کی زبان اور ساخت عام طبقے کے طلبہ کو فطری قصوروار کے طور پر پیش کرتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ضوابط میں عام طبقے کے لیے نہ تو نمائندگی کی کوئی واضح شق ہے اور نہ ہی تحفظ سے متعلق کوئی جامع بندوبست، جس کے باعث شکایتی نظام کے غلط استعمال اور بے بنیاد الزامات کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

ان ضوابط کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور کرنی سینا سمیت کئی تنظیموں نے یکم فروری کو ہندوستان بند کا اعلان بھی کیا ہے۔ دوسری جانب یو جی سی اور حکومت کا موقف ہے کہ یہ ضوابط تعلیمی اداروں میں امتیاز کے خاتمے اور مساوی مواقع کو یقینی بنانے کی سمت ایک ضروری قدم ہیں۔ سپریم کورٹ کی آج کی سماعت کو اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ اس کے فیصلے کا اثر ملک بھر کے تعلیمی نظام پر پڑ سکتا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔