سونم وانگچک کی حراست کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی، کارروائی کو غیر قانونی اور من مانی قرار دیا گیا

سپریم کورٹ جمعرات کو سونم وانگچک کی این ایس اے کے تحت حراست کو چیلنج کرنے والی عرضی پر سماعت کرے گی۔ عرضی میں حراست کو غیر قانونی، من مانی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سپریم کورٹ نے جیل میں بند ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کو چیلنج کرنے والی عرضی پر جمعرات کو سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ عرضی وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے آنگمو کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست میں رکھے جانے کو غیر قانونی اور من مانی قرار دیا گیا ہے۔ بدھ کے روز جسٹس اروند کمار اور جسٹس پی بی ورالے پر مشتمل بنچ نے سماعت کو ایک دن کے لیے ملتوی کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس معاملے پر باضابطہ بحث جمعرات کو کی جائے گی۔

سونم وانگچک کی جانب سے سینئر وکیل کپل سبل عدالت میں پیش ہوئے۔ اس سے قبل اسی معاملے کی سماعت جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاری پر مشتمل بنچ نے کی تھی۔ عرضی میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وانگچک کی حراست نہ صرف آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس میں قانونی تقاضوں اور مناسب طریقۂ کار کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔


عدالت کو بتایا گیا کہ مرکز اور لداخ کی مرکز کے زیر انتظام حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے 24 نومبر کو جواب داخل کرنے کے لیے وقت مانگا تھا، جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کر دی تھی۔ اس سے قبل 29 اکتوبر کو عدالت نے آنگمو کی ترمیم شدہ عرضی پر مرکز اور لداخ انتظامیہ سے جواب طلب کیا تھا۔

سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ کارروائی لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور اسے چھٹی شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دو دن بعد کی گئی تھی۔ ان مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں چار افراد کی موت اور نوے کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ حکومت کا الزام ہے کہ وانگچک نے تشدد بھڑکانے میں کردار ادا کیا، تاہم عرضی میں اس الزام کو یکسر مسترد کیا گیا ہے۔

ترمیم شدہ عرضی کے مطابق حراستی حکم پرانی ایف آئی آرز، مبہم الزامات اور قیاس آرائیوں پر مبنی ہے اور ان کا وانگچک کی مبینہ سرگرمیوں سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں بنتا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اختیارات کا اس طرح استعمال آئینی آزادیوں اور مناسب قانونی عمل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے، اس لیے عدالت کو یہ حراستی حکم منسوخ کرنا چاہیے۔

آنگمو نے عدالت کو بتایا کہ وانگچک نے 24 ستمبر کو لہہ میں ہونے والے تشدد کی سخت مذمت کی تھی اور سوشل میڈیا کے ذریعے واضح کیا تھا کہ تشدد لداخ کی پرامن جدوجہد اور برسوں کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔ ان کے مطابق تعلیم، اختراع اور ماحولیاتی تحفظ کے میدان میں وانگچک کی دہائیوں پر محیط خدمات کے باوجود انہیں اچانک نشانہ بنانا ناقابل فہم ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔