آئی پیک چھاپہ معاملہ: ای ڈی کی عرضی پر سپریم کورٹ میں آج ہوگی سماعت

سپریم کورٹ آج آئی پیک چھاپہ معاملے میں ای ڈی کی عرضی پر سماعت کرے گا۔ ای ڈی نے ممتا بنرجی اور پولیس افسران پر کارروائی میں مداخلت کا الزام لگایا ہے، جسے وزیراعلیٰ نے مسترد کر دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے دائر عرضی پر آج سماعت کرے گا جس میں کولکاتا میں آئی پیک کے دفتر اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کی رہائش گاہ پر کی گئی تلاشی کے دوران مبینہ مداخلت کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ ای ڈی نے اپنی عرضی میں مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی، ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل اور کولکاتا پولیس کمشنر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری فہرست کے مطابق یہ معاملہ جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ کے سامنے درج ہے۔ گزشتہ ہفتے ای ڈی کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مغربی بنگال حکومت کے جواب حلف نامے پر ردعمل داخل کرنے کے لیے مہلت طلب کی تھی، جس کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کر دی تھی۔ جسٹس مشرا کی سربراہی والی بنچ نے آئندہ سماعت 10 فروری مقرر کی تھی۔


ای ڈی کا الزام ہے کہ جب کولکاتا میں آئی پیک کے دفتر اور پرتیک جین کے گھر پر بیک وقت تلاشی کی کارروائی جاری تھی تو ریاستی حکام نے مرکزی ایجنسی کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس دوران قانونی فرائض کی ادائیگی میں مداخلت کی گئی۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے جواب حلف نامے میں تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی موجودگی محدود نوعیت کی تھی اور اس کا مقصد ترنمول کانگریس سے متعلق حساس اور ملکیتی ڈیٹا کی حفاظت تھا۔

حلف نامے کے مطابق وہ 8 جنوری 2026 کو لاوڈن اسٹریٹ میں پرتیک جین کی رہائش گاہ اور بیدھان نگر میں آئی پیک کے دفتر پہنچی تھیں، کیونکہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ تلاشی کے دوران پارٹی کے اہم سیاسی ڈیٹا تک رسائی حاصل کی جا رہی ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ متعلقہ ڈیٹا آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے پارٹی کی حکمت عملی سے جڑا ہوا تھا۔ حلف نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے ای ڈی حکام سے درخواست کی کہ پارٹی کے ڈیٹا اور اس سے متعلق آلات اور فائلیں نکالنے کی اجازت دی جائے، جس پر حکام نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور کچھ سامان لے جانے کی اجازت دے دی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔