کمیونٹی کچن پر مرکزکی سرزنش، تین ہفتہ میں ٹھوس اقدام کرے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے کہاکہ حکومت کی طرف سے داخل حلف نامہ میں دی گئی تفصیلات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی مشورے لینے کے عمل میں ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سپریم کورٹ نے پورے ملک میں کمیونٹی کچن قائم کرنے کے معاملہ میں مرکزی حکومت کے طور طریقوں پر سنگین سوالا ت اٹھاتے ہوئے ایک بار پھر سرزنش کی اور ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستوں کے ساتھ میٹنگ کرکے اس معاملے میں ان کی رضامندی حاصل کرنے کے ساتھ تین ہفتہ میں ٹھوس پہل کرنے کی ہدایت دی۔

چیف جسٹس این وی رمن ، جج اے ایس بوپنا اور جج ہما کوہلی کی بنچ نے تمام ریاستی حکومتوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ کورونا وبا سے پیدا ہونے والی عجیب و غریب صورتحال کا سامنا کررہے غریبوں کو کھانا فراہم کرنے والی اس اسکیم کو جلد عملی شکل دینے کی کوششوں میں اپنا فرض اداکریں۔ بنچ نے کہاکہ ہم تمام ریاستوں کو اس اسکیم میں ہندستانی حکومت کا تعاون کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔


بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کسی ریاستی حکومت کو کوئی اعتراض ہوگا تو وہ اس معاملے پر اگلی سماعت میں غور کرے گی۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ حکومت کی طرف سے داخل حلف نامہ میں دی گئی تفصیلات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اب بھی مشورے لینے کے عمل میں ہے۔

چیف جسٹس کی صدارت والی اس بنچ نے حکومت کی طرف سے اب تک اختیار کئے گئے طریقہ کار اور کوششوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اس اسکیم کو نافذ کرنے کے موڈ میں نہیں ہے۔


عدالت عظمی نے حکومتوں کو اپنی ذمہ داری یاد دلاتے ہوئے کہاکہ کسی بھی فلاح وبہبود والی ریاست کی پہلی ذمہ داری لوگو ں کو بھوکا مرنے سے بچانے کی ہوتی ہے۔ بنچ نے بہار، اترپردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر اور اوڈیشہ کو بھی اس معاملے میں اپنا جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔

عدالت عظمی نے سماجی کارکن انو دھون، ایشا، دھون اور گنجن کی طرف سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کررہی تھی۔ وبا کے دور میں غریبوں کے سامنے پیدا ہوئے بھکمری کے مسئلہ کو دور کرنے کے لئے عرضی میں فوڈ سیکورٹی یقینی کرنے لئے سبسڈی والا کمیونٹی کچن پورے ملک میں قائم کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی گزار نے اس اسکیم کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرانتظام ریاستوں میں نافذ کرنے کی درخواست کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔