’جنم بھومی لڈو نہیں جو بانٹ دیا جائے‘، سپریم کورٹ کے مشورے سے ہندو فریق ناراض

مہنت کمل نین داس نے کہا ’’بھگوان رام ہندوؤں کے دیوتا ہیں، ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں، فیصلہ میں ہو رہی تاخیر کے لئے سپریم کورٹ ذمہ دار ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

بابری مسجد -رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ معاملہ میں سپریم کورٹ کی مصالحت کی پہل پر رم جنم بھومی ٹرسٹ کے سربراہ مہنت گوپال داس کے وارث مہنت کمل نین داس نے ناراضگی کا اظہا ر کیا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ میں کسی بھی طرح کی مصالحت اور سمجھوتے سے صاف انکار کیا ہے۔ کمل نین داس نے کہا کہ رام جنم بھومی کے لئے وہ مسلمانوں سے قطعی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’’بھگوان رام ہندؤوں کے دیوتا ہیں، ان پر کوئی مصالحت نہیں ہوگی، فیصلہ میں ہو رہی تاخیر کے لئے سپریم کورٹ ذمہ دارہے۔ سپریم کورٹ نے بارہا ہندؤوں کی بے عزتی کی ہے۔‘‘

مصالحت کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جن کا کچھ نہیں ہے وہی مصالحت کی بات کر رہے ہیں۔ عدالت کی وجہ سے ہی 1992 میں بابری مسجد گرائی گئی تھی۔ ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مہنت کمل نین داس نے کہا کہ رام جنم بھومی کوئی لڈو نہیں ہے جو سب کو بانٹ دیا جائے۔ اس مقام پر صرف اور صرف رام مندر ہی تعمیر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سے کسی طرح کا سمجھوتہ انہیں منظور نہیں ہوگا۔

ادھر سپریم کورٹ کی مصالحت کی پہل پر ہندو فریق مہنت رام داس نے کہا کہ اس کے لئے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو مقرر کیا جائے، جو آئینی طور پر دونوں فریقین سے بات چیت کرے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا مشورہ قابل تحسین ہے، کروڑوں ہندؤوں کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے مسلمان فراخ دلی کا مظاہرہ کریں۔

دوسری طرف بابری مسجد ملکیت مقدمہ کے اہم مدعی اقبال انصاری نے کہا کہ باہمی مفاہمت کا وقت اب گزر چکا ہے۔ اب تمام فریقین عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ہی قبول کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کرنے والے لوگ بہت ہیں لہذا اب عدالت کے باہر مفاہمت ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت جو بھی فیصلہ دے اسے ہندو اور مسلمان سبھی قبول کریں گے۔

قبل ازیں بدھ کے روز بابری مسجد ملکیت معاملہ کی مصالحت پر سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا لیا۔ سپریم کورٹ کی 5 رکنی بنچ نے تمام فریقین کے دلائل پر غور کرنے کے بعد مصالحت کے لئے نام تجویز کرنے کو کہا ہے۔ سماعت کے دوران ہندو مہا سبھا نے مصالحت کی مخالفت کی وہیں نرموہی اکھاڑا اور مسلم فریق مصالحت کے لئے رضامند ہیں۔ مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے کہا کہ عدالت عظمی کو ہی طے کرنا چاہیے کہ گفت شنید کس طرح ہو؟

Published: 6 Mar 2019, 5:10 PM