سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر جواب طلب کیا ہے

عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ درختوں کی کٹائی اور زمین کی کھدائی سے متعلق سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کی ہدایات دے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سپریم کورٹ نے ہزاروں کروڑ روپے کے سینٹرل وسٹا پروجیکٹ پر سوال اٹھانے والی عرضی پر پیر کو مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا۔ جسٹس اے۔ ایم کھانولکر اور جسٹس سی ٹی روی کمار کی بنچ نے سماجی کارکن راجیو سوری کی درخواست پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

سماعت کے دوران سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا کہ وہ حکومت سے ہدایات لینے کے بعد جواب داخل کریں گے۔ سپریم کورٹ اس درخواست پر جمعہ کو سماعت کرے گی۔


ایڈوکیٹ شکھل سوری کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو 28 اکتوبر 2020 کو مرکزی شہری ترقیاتی وزارت کا نوٹیفکیشن کالعدم کرنے کا حکم دے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ زمین کے استعمال سے متعلق تبدیلیاں قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے کی گئی ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ یہ نوٹیفکیشن آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت لوگوں کے زندگی کے حق کی ضمانت کے خلاف ہے۔ لوگوں کو صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہونے کا حق اس آرٹیکل میں دیا گیا ہے۔


درخواست میں ضروری ماحولیاتی کلیئرنس پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ درختوں کی کٹائی اور زمین کی کھدائی سے متعلق سرگرمیوں کو فوری طور پر روکنے کی ہدایات دے۔

واضح رہے کہ راشٹرپتی بھون سے انڈیا گیٹ تک تقریباً 3 کلومیٹر کے دائرے میں پارلیمنٹ ہاؤس اور کئی وزارتوں اور سرکاری عمارتوں کی تعمیر نو پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔