سپریم کورٹ کی پھٹکار، کیا ٹیلی کام کمپنیاں ہمیں بیوقوف سمجھتی ہیں؟

ٹیلی کام کمپنیوں کے رویہ سے سخت برہم سپریم کورٹ نے ان کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا وہ عدالت کو بیوقوف سمجھتی ہیں اور خود کو سب سے زیادہ طاقتور

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ نے ٹیلی کام کمپنیوں کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا ہے کہ بقایاجات کو لے کر وہ خود احتساب نہ کریں اور ایسا کرنا توہین عدالت تسلیم کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اور جو سامنے آ رہا ہے وہ بہت چونکانے والا ہے۔ سپریم کورٹ نے یہاں تک کہہ دیا ’’کیا ہم بیوقوف ہیں، کیا یہ عدالت کے لئے عزت کی بات ہے کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو لگے کہ وہ دنیا میں سب سے طاقتور ہیں۔‘‘

واضح رہے پیر کو ووڈا اور آئیڈیا فون نے کہا تھا کہ محکمہ ٹیلی کام کو مزید3,354 کروڑ روپے ادا کیے گئے ہیں۔ کمپنی نے مزید کہا ہے کہ اس نے اپنا حساب لگا کر اے جی آر کی اصل رقم پوری ادا کر دی ہے اور کمپنی اب تک حکومت کو اے جی آر بقایا کو لے کر6,854 کروڑ روپے دے چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے ٹیلی کام کمپنیوں کو زوردار پھٹکار لگائی ہے اور ساتھ ہی میں کورٹ نے ٹیلی کام کمپنیوں کے سارے ایم ڈی کو جیل بھیجنے کے لئے انتباہ بھی کیا ہے۔ واضح رہے محکمہ ٹیلی کام نے ووڈا اور آئیڈیا فون سے اے جی آر بقایا کو لے کر قریب53 ہزار کروڑ روپے کی مانگ کی ہے۔ اس میں سود، جرمانہ اور اصل رقم دینے میں کی گئی تاخیر پر سود بھی شامل ہے۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ اے جی آر دینداری پر خود احتساب کرنے کی رپورٹ محکمہ ٹیلی کام کو چھ مارچ کو سونپ چکی ہے۔ اس سے پہلے کمپنی نے 17 فروری کو2,500 کروڑ روپے اور 20 فروری کو ایک ہزار کروڑ روپے کی ادائیگی کی تھی۔