مہاجر مزدوروں کے لیے مرکزی و ریاستی حکومتوں کے اقدامات ناکافی: سپریم کورٹ

عدالت عظمیٰ نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں حکومت ہند، ریاستی حکومتوں/مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے ذریعہ مشکل حالات کا سامنا کر رہے مہاجر مزدوروں کی مدد کے لیے ہاتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سپریم کورٹ نے منگل کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ ملک گیر لاک ڈاؤن کےد وران ملک کے مختلف حصوں میں پھنسے مہاجر مزدوروں کے مسائل کا از خود نوٹس لیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس میں طویل مدت سے پیدل یا سائیکل سے چلنے والے مہاجر مزدوروں کی حالت زار دکھائی دے رہی ہے۔ جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس ایس کے کول اور جسٹس ایم آر شاہ کی بنچ نے کہا کہ "حالانکہ حکومت ہند اور ریاستی حکومتوں نے اقدامات کیے ہیں، لیکن یہ ناکافی ہیں اور ان میں کچھ خامیاں ہیں۔ ہم مانتے ہیں کہ حالات پر قابو پانے کے لیے اثردار طریقے سے کوششیں ضروری ہیں۔"

بنچ نے اس معاملے میں 28 مئی کو سماعت کرنے کے لیے کہا ہے اور ساتھ ہی رجسٹری کو سالیسٹر جنرل تشار مہتہ، ریاستوں اور مرکز کے ماتحت ریاستوں کو ایک کاپی دینے کے لیے کہا۔ کورونا بحران کے دوران مہاجر مزدوروں کی حالت کو ظاہر کرنے والی کئی عرضیاں داخل کیے جانے کے بعد عدالت عظمیٰ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔


سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کی موجودہ حالت میں، سماج کے اس حصے کو حکومتوں کے ذریعہ امداد کی ضرورت ہے، خصوصاً حکومت ہند، ریاستی حکومتوں/مرکز کے ماتحت ریاستوں کے ذریعہ اس مشکل وقت میں ان مہاجر مزدوروں کی مدد کے لیے ہاتھ آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسے مہاجر مزدوروں کے مسائل کو ظاہر کرنے والے سماج کے مختلف طبقات سے کئی خط اور درخواستیں ملی ہیں۔ بنچ نے کہا کہ مہاجر مزدوروں پر بحران آج بھی جاری ہے، کیونکہ اب بھی یہ بڑی تعداد میں سڑکوں، شاہراہوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ریاستی سرحدوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتوں کے ذریعہ انھیں اضافی ٹرانسپورٹیشن، کھانا اور رہائش کو فوراً مفت میں مہیا کیا جانا چاہیے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ انھوں نے (مہاجر مزدوروں نے) انتظامیہ کے ذریعہ ان جگہوں پر جہاں وہ پھنسے ہوئے ہیں یا جن راستوں سے وہ پیدل، سائیکل یا ٹرانسپورٹ کے دیگر وسائل سے آگے بڑھ رہے ہیں، انھیں کھانا اور پانی دستیاب نہیں کرانے کے بارے میں بھی شکایت کی ہے۔ مرکز اور سبھی ریاستوں/مرکز کے ماتحت ریاستوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے ان سے معاملے کو فوری طور پر دیکھتے ہوئے اپنا رد عمل پیش کرنے کو کہا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔