سپریم کورٹ فیصلہ سے ’نیٹ کونسلنگ‘ کا راستہ صاف، ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کو راحت

نیٹ او بی سی، ای ڈبلیو ایس کوٹا معاملہ پر فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے اسی سیشن کے لئے حکومت کے 27 فیصد او بی سی ریزرویشن کے منصوبہ کو منظوری فراہم کر دی ہے، جس کے بعد کونسلنگ کا راستہ صاف ہو گیا ہے

سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
سپریم کورٹ کی تصویر، آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے آج یعنی جمعہ کے روز نیٹ پی جی (نیشنل ایلیجبلٹی ٹیسٹ۱ذکونسنگ معاملہ پر حتمی فیصلہ سناتے ہوئے اسی سیشن کے لئے حکومت کے 27 فیصد او بی سی ریزرویشن کے منصوبہ کو منظور فراہم کر دی۔ عدالت عظمی کے اس فیصلہ کے بعد کونسلنگ کا راستہ صاف ہو گیا اور ملک بھر کے ان ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے راحت کی سانس لی جو گزشتہ کچھ دنوں سے احتجاج کر رہے تھے۔

قبل ازیں، اس معاملہ پر جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے کہا تھا کہ قومی مفاد میں نیٹ پی جی کونسنگ کا شروع کرنا ضروری ہے، کیونکہ ملک میں ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اسی سیشن کے لئے ریزرویشن کو منظوری فراہم کرتے ہوئے کہا کہ مزید سیشن کے لئے کوٹا سیٹوں پر ریزرویشن کے معاملہ پر کورٹ مارچ کے مہینے میں سماعت کرے گا۔


سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اب حکومت کے 27 فیصد او بی سی کوٹا کو منظور حاصل ہو گئی ہے۔ نتیجتاً آل انڈیا کوٹا کی 27 فیصد سیٹیں اب او بی سی کیٹیگری کے طلبا کے لئے مختص ہوں گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔