نفرت انگیز تقاریر سے متعلق عرضیوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ رکھا

سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقاریر کے خلاف کارروائی سے متعلق عرضیوں پر فیصلہ محفوظ رکھا، فریقین سے تحریری دلائل طلب کیے اور ہدایت دی کہ دو ہفتوں میں مختصر نوٹس داخل کیے جائیں

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقاریر کے واقعات کے خلاف مؤثر اقدامات کی مانگ پر دائر متعدد عرضیوں پر منگل کے روز اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ عدالت کی بنچ، جس میں جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا شامل تھے، نے تمام فریقین کو ہدایت دی کہ وہ اپنے تحریری دلائل اور وضاحتیں مقررہ مدت کے اندر جمع کرائیں۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے میں قانونی نکات اور عملی تجاویز پر تفصیلی غور ضروری ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بنیادی سوال پر توجہ مرکوز رکھی کہ آیا مذہبی یا سماجی بنیادوں پر دی جانے والی بھڑکاؤ تقاریر پر روک کے لیے کوئی جامع رہنما اصول طے کیے جائیں یا کسی مستقل انتظام کی ضرورت ہے۔ عدالت کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ نفرت انگیز بیانات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جرائم کو روکنے میں موجود قوانین اور انتظامی مشینری کس حد تک مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

عرضی گزاروں کی جانب سے وکیل نظام پاشا نے مؤقف اختیار کیا کہ شکایات درج ہونے کے باوجود اکثر معاملات میں ایف آئی آر درج نہیں کی جاتیں اور اگر کی بھی جائیں تو مناسب دفعات شامل نہیں ہوتیں۔ ان کے مطابق ہلکی نوعیت کی دفعات کے باعث ایسے افراد دوبارہ اسی طرح کے بیانات دیتے نظر آتے ہیں، جس سے نفرت پر مبنی جرائم کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملزمان کی شناخت ہو جاتی ہے تو ریاستی ادارے کارروائی میں ناکام کیوں رہتے ہیں۔


ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے عدالت کو بتایا کہ ایک رجحان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض نفرت انگیز بیانات میں خاص طور پر مذہبی شخصیات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن منظوری کے نام پر شکایات درج نہیں ہوتیں۔ ہندو سینا کے وکیل برون سنہا نے دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی شخصیات کے خلاف شکایات کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

ایڈوکیٹ سنجے ہیگڑے نے نشاندہی کی کہ اظہارِ رائے کی آزادی اور نفرت انگیز تقریر کے درمیان باریک لکیر ہے، لیکن جب کسی کمزور سماجی طبقے کو نشانہ بنایا جائے تو یہ محض رائے نہیں رہتی بلکہ نقصان دہ حملہ بن جاتی ہے۔ سماعت کے اختتام پر عدالت نے فریقین کو دو ہفتوں کے اندر اپنے مختصر تحریری نوٹس داخل کرنے کی اجازت دیتے ہوئے معاملہ محفوظ کر لیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔