نربھیا کیس: مجرم مکیش کی عرضی پر عدالت عظمیٰ بدھ کو سنائے گا فیصلہ

سپریم کورٹ نے نربھیا کیس کے مجرم مکیش کی رحم کی عرضی خارج کیے جانے کو چیلنج کرنے والی اپیل پر منگل کے روز فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس معاملے میں بدھ کے روز فیصلہ سنایا جائے گا۔

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے نربھیا کیس کے مجرم مکیش کی رحم کی عرضی خارج کیے جانے کو چیلنج کرنے والی اپیل پر منگل کے روز فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ جسٹس آر بھانو متی، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے ایس بوپنا کی بنچ نے مکیش کی جانب سے پیش سینئر وکیل انجنا پرکاش اور دہلی حکومت کی جانب سے سالسٹر جنرل تُشار مہتا کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔

عدالت نے کہا کہ رحم کی عرضی خارج کرنے کے صدر کے اختیارات کا جائزہ لینے کا اس کا محدود اختیار ہے اور وہ محض اس بات پر فیصلہ کر سکتی ہے کہ رحم کی عرضی کے ساتھ حسب ضرورت دستاویز مہیا کروائے گئے تھے یا نہیں۔ عدالت کل اس معاملے میں فیصلہ سنائے گی ۔

قبل ازیں مکیش کی جانب سے وکیل انجنا پرکاش سے بنچ نے پوچھا کہ انھیں بحث کرنے کے لیے کتنا وقت چاہیے؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ انھیں کم از کم ایک گھنٹہ چاہیے، لیکن سپریم کورٹ کے اعتراض کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ زیادہ تر آدھا گھنٹے میں بحث پوری کر لیں گی حالانکہ ان کی بحث کے پورا نہ ہونے کے آثار کے سبب جسٹس بھانومتی نے کہا کہ لنچ کے بعد پھر ان کے دلائل سنیں گے۔

سماعت کے دوران مکیش کی وکیل نے کہا،’ آئین کے مطابق حقِ زندگی اور آزادی سب سے اہم ہے‘ ۔ انہوں نے کہا کہ صدر کے فیصلے کی بھی عدالتی نظرثانی ہوسکتی ہے۔ انجنا پرکاش نے کچھ پرانے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صدر کو کسی رحم کی عرضی پر غور وخوض کرتے ہوئے وقت مجرمانہ معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے تسلیم کیا تھا کہ دفعہ 72 یا دفعہ 161 کے تحت صدر یا گورنر کے حکم کی عدالتی نظر ثانی دستیاب ہے اور ان کے حکم کے خلاف مخصوص بنیادوں پراپیل کی جا سکتی ہے۔

انجنا پرکاش نے کہا کہ صدر نے یہ فیصلہ عجلت میں کیا اور عجلت میں کیا گیا فیصلہ مناسب نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی فیصلوں میں چوک ہوسکتی ہے اور فرد کی آزادی سے متعلق پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے۔ معافی کا اختیار کسی کی ذاتی مہربانی نہ ہوکر آئین کے تحت قصوروار کو حاصل ہونے والا حق ہے۔ اور صدر کو حاصل معافی کے اختیار کا بہت ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہونا ضروری ہے۔