سپریم کورٹ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا

درخواست گزاروں نے ایس آئی آر کے عمل میں شفافیت کی کمی کا الزام لگایا اور ایسی مثالیں پیش کیں جہاں ووٹروں کو نام حذف کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

سپریم کورٹ نے جمعرات کو ان متعدد درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا، جن میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی جانب سے کئی ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کی آئینی و قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا۔

عدالت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا الیکشن کمیشن کے پاس آئین کے آرٹیکل 326 اور عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کے تحت یہ اختیار ہے کہ وہ موجودہ شکل میں ایس آئی آر کا انعقاد کر سکے یا نہیں۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بینچ نے نومبر 2025 سے جاری تفصیلی سماعت کے بعد اس معاملے میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔ زیادہ تر درخواستیں گزشتہ سال جون میں اس وقت دائر کی گئی تھیں، جب الیکشن کمیشن نے بہار میں ایس آئی آر کے عمل کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ غیر سرکاری تنظیموں، سیاسی رہنماؤں اور انفرادی کارکنوں سمیت 13 سے زائد درخواست گزاروں نے عدالت سے رجوع کیا ہے۔


اہم درخواست گزاروں میں ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر)، پی یو سی ایل، یوگیندر یادو، مہوا موئترا (ترنمول کانگریس رکنِ پارلیمان)، منوج جھا (آر جے ڈی رکنِ پارلیمان)، کے سی وینوگوپال (کانگریس رکنِ پارلیمان) اور سپریا سولے (این سی پی–ایس پی) شامل ہیں۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ ایس آئی آر دراصل ایک بالواسطہ "این آر سی جیسا عمل" ہے، جو الیکشن کمیشن کو عملی طور پر شہریت کی جانچ کرنے والا ادارہ بنا دیتا ہے۔

درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ ووٹر کی اہلیت سے متعلق شکوک کا حل صرف عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کی دفعہ 16 کے مطابق ہونا چاہیے، جس میں ووٹر لسٹ سے نااہلی کے مخصوص اسباب بیان کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریت سے متعلق معاملات شہریت ایکٹ کی دفعات 8 اور 9 کے تحت صرف مرکزی حکومت اور فارنرز ٹریبونلز کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔


درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ عارضی ووٹر لسٹیں تیار کر کے اور افراد پر مخصوص دستاویزات کے ذریعے شہریت ثابت کرنے کا بوجھ ڈال کر ایس آئی آر قانونی نظام کو الٹ دیتا ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق، اس عمل کے تحت نام حذف کیے جانے سے "معطل شہریت" جیسی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔مزید یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا کہ ایس آئی آر میں استعمال ہونے والی مردم شماری کے فارموں کو آر پی ایکٹ یا اس کے قواعد کے تحت قانونی منظوری حاصل نہیں ہے۔ دفعہ 21(3) کی تشریح پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ یہ ایک ساتھ کئی ریاستوں میں ایس آئی آر کی اجازت نہیں دیتی، بلکہ اسے صرف غیر معمولی حالات میں کسی ایک حلقے یا اس کے کسی حصے تک محدود سمجھا جانا چاہیے۔

درخواست گزاروں نے ایس آئی آر کے عمل میں شفافیت کی کمی کا بھی الزام لگایا اور ایسی مثالیں پیش کیں جہاں ووٹروں کو نام حذف کرنے کی وجہ نہیں بتائی گئی اور حذف کے بعد ووٹر تعداد میں غیر واضح اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکلاء کپل سبل، ڈاکٹر اے ایم سنگھوی، گوپال شنکرنارائنن، شاداں فراست، پی سی سین اور راجو رام چندرن کے علاوہ پرشانت بھوشن، وردھا گروور، نظام پاشا اور شاہ رخ عالم نے عدالت میں دلائل پیش کیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔