’جگن ناتھ رَتھ یاترا‘ پر پابندی ہٹانے کی عرضی سپریم کورٹ نے کی خارج

اس بار جگن ناتھ رَتھ یاترا پوری میں عقیدتمندوں کی بھیڑ کے بغیر ہی نکالی جائے گی اور عام لوگوں کو رَتھ کے راستے میں چھتوں سے بھی رسم دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
سپریم کورٹ، تصویر یو این آئی
user

تنویر

کورونا وبا کے پیش نظر کئی ریاستوں میں مذہبی تقاریب کے انعقاد پر پابندی لگی ہوئی ہے اور اڈیشہ میں جگن ناتھ رَتھ یاترا کو لے کر بھی اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس سال عوام اس میں شامل نہیں ہو پائیں گے۔ دراصل اڈیشہ حکومت کے ذریعہ صرف پوری جگن ناتھ مندر میں رَتھ یاترا کی اجازت دی گئی ہے جس کو لے کر سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی گئی تھی اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ دیگر حصوں میں بھی رَتھ یاترا نکالنے کی اجازت دی جائے۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ اس سال یہ اجازت نہیں دی جا سکتی، اور امید کرتے ہیں کہ بھگوان اگلے سال سب اچھا کر دے تاکہ رَتھ یاترا نکل سکے۔

سپریم کورٹ نے پابندیوں کے ساتھ پوری میں رَتھ یاترا نکالنے کی ریاستی حکومت کی ہدایت کو درست ٹھہرایا اور کہا کہ باقی حصوں میں صرف مندر کے اندر پوجا کی اجازت جو انتظامیہ نے دی ہے، اس پر عمل کیا جائے۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ’’میں بھی پوری جانا چاہتا ہوں۔ امید ہے اگلے سال بھگوان سبھی رسم پوری کرنے کی اجازت دیں گے۔‘‘


واضح رہے کہ اس بار سالانہ رَتھ یاترا اُتسو عقیدتمندوں کی بھیڑ کے بغیر ہی منایا جائے گا اور عام لوگوں کو رَتھ کے راستے میں چھتوں سے بھی رسم دیکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پوری کے ضلع مجسٹریٹ سمرتھ ورما نے کہا کہ انتظامیہ نے اپنے فیصلہ کا تجزیہ کیا ہے اور رتھ یاترا کا نظارہ گھروں اور ہوٹلوں کی چھتوں سے دیکھنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ 12 جولائی کو ہونے والے اس اُتسو سے ایک دن قبل پوری شہر میں کرفیو لگایا جائے گا جو اگلے دن دوپہر تک اثرانداز رہے گا۔ ورما نے کہا کہ بھگوان بلبھدر، دیوی سبھدرا اور بھگوان جگن ناتھ کا یہ اُتسو کووڈ-19 وبا کے سبب لگاتار دوسرے سال بغیر عقیدتمندوں کی شرکت کے منایا جا رہا ہے۔ انھوں نے شہر کے لوگوں سے ٹیلی ویژن پر اس تقریب کا براہ راست نشریہ دیکھنے کی اپیل کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔