سپریم کورٹ کا دہلی میں این ایس اے لگائے جانے کے خلاف عرضی کی سماعت سے انکار

قومی سلامتی قانون کے تحت جس شخص کو قومی سلامتی اور قانون وانصرام کے لئے خطرہ محسوس کیا جاتا ہے انتظامیہ ایسے شخص کو احتیاطا مہینوں تک حراست میں رکھ سکتا ہے۔

سوشل میڈیا
سوشل میڈیا
user

یو این آئی

پریم کورٹ نے دہلی میں قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کےنفاذ کرنے کے حکومت کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرنے سے جمعہ کو انکار کردیا۔ جسٹس ارون مشرا اور جسٹس اندرا بنرجی کی بنچ نے عرضی گذار منوہر لال شرما کی عرضی کی سماعت سے انکار کردیا ہے۔

جسٹس مشرا نے کہا کہ ’’یہ قانون وانصرام کا معاملہ ہے اور ہم دہلی میں نفاذ قومی سلامتی قانون کو ہٹانے کے سلسلے میں حکومت کو کسی طرح کا حکم نہیں دے سکتے ہیں۔‘‘

اسی مہینے دہلی کے لفٹننٹ گورنر انل بیجل کی جانب سے ایک نوٹی فیکیشن جاری کرکے قومی سلامتی قانون کے تحت دہلی پولس کمشنر کو کسی شخص کو حراست میں لینے کا اختیار دے دیاتھا۔

قومی سلامتی قانون کے تحت جس شخص کو قومی سلامتی اور قانون وانصرام کے لئے خطرہ محسوس کیا جاتا ہے انتظامیہ ایسے شخص کو احتیاطا مہینوں تک حراست میں رکھ سکتا ہے۔ دہلی کے لفٹننٹ گورنر نے 19 جنوری سے 18 اپریل تک اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے قومی سلامتی قانون 1980 کی دفعہ تین کی ذیلی دفعہ (3) کو دہلی میں نفاذ کردیاتھا۔ جس کے تحت دہلی پولس کمشنر کو کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کا اختیار مل گیا ہے۔