رام مندر، سی اے اے، این آر سی اور کشمیر پر سپریم کورٹ نے اٹھایا ’غلط قدم‘: سابق چیف جسٹس

دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ کا کہنا ہے کہ ’’نجی طور پر مجھے عدالت کی آواز تقریباً ’غائب‘ محسوس ہو رہی ہے۔ یا پھر مضبوط حکومت میں عدلیہ کی آواز ’دَب‘ سی گئی ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

رام مندر تعمیر، شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کا معاملہ لگاتار تنازعہ میں ہے۔ بی جے پی حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے ان اقدام اور پھر ان کے خلاف داخل عرضی پر سپریم کورٹ کے رویہ پر کئی لوگوں نے سوال بھی اٹھائے۔ اب دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور لاء کمیشن کے سابق صدر جسٹس اجیت پرکاش شاہ نے سپریم کورٹ کے ذریعہ سنائے گئے کچھ تازہ فیصلوں پر اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ اکثریتی طبقہ سے جڑے لوگوں کے جذبات پر قابو کر حکومت کے نظریہ سے عدم اطمینان ظاہر کرنے میں ناکام رہی۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’شہریت ترمیمی قانون، جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹانے، رام مندر، این آر سی سمیت کئی ایشوز ایسے ہیں جن پر سپریم کورٹ نے انصاف پر مبنی قدم نہیں اٹھائے ہیں۔‘‘

دراصل جسٹس شاہ مجاہد آزادی اور گاندھی وادی شخصیت ایل سی جین کی یاد میں منعقد ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کئی معاملوں کی سماعت سے متعلق ترجیحات طے کرنے میں بھی غلطیاں کی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ عدالت کے پاس مفاد عامہ، شہری حقوق سے متعلق مقدموں کی سماعت کے لیے وقت نہیں ہے۔ اس میں تاخیر کی گئی۔‘‘ جسٹس اے پی شاہ نے جموں و کشمیر میں دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد کی حالت سے جڑی عرضیوں پر سماعت میں تاخیر کیے جانے پر خصوصی طور پر سوال اٹھایا۔

الیکٹورل بانڈ سے متعلق تذکرہ کرتے ہوئے جسٹس شاہ نے کہا کہ ’’اس پر روک لگانے کی جگہ عدالت نے سیل بند لفافے میں تفصیلی رپورٹ منگانے کو ترجیح دی۔ کئی انتخاب گزر گئے لیکن یہ کیس جوں کا توں بنا رہا۔‘‘ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کی اس بات پر بھی حیرانی ظاہر کی جس میں کہا گیا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون پر سماعت اسی صورت میں ہوگی جب تشدد رک جائے گا۔

این آر سی کے معاملے پر سپریم کورٹ کا رخ بھی جسٹس اے پی شاہ کے لیے اطمینان بخش نہیں رہا۔ انھوں نے اس سلسلے میں کہا کہ ’’عدالت نے انہی لوگوں کو شہریت ثابت کرنے کو کہہ دیا جو این آر سی سے متاثر تھے اور پریشان ہو کر عرضی دہندہ بنے تھے۔ ایسا کر کے عدالت نے ایک طرح سے حکومت کی اس دلیل کو ہی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جن کے پاس کاغذات نہیں ہیں، وہ غیر ملکی ہیں۔‘‘

ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کے لیے فیصلہ صادر کیے جانے پر جسٹس شاہ نے کہا کہ ’’اس فیصلے میں ایکویٹی ایک اہم ایشو تھا، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے پورا ججمنٹ ہی مشتبہ ہے، کیونکہ یہ اب بھی ایسا لگتا ہے جیسے ہندوؤں کے ذریعہ کی گئی غیر قانونی (پہلی بار 1949 میں مسجد میں رام للا کی مورتیوں کو رکھنا اور دوسرا 1992 میں بابری مسجد انہدام) کو قبول کرنے کے باوجود عدالت نے اپنے فیصلے سے غلط کرنے والے کو انعام دیا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ جسٹس اے پی شاہ نے کچھ دنوں پہلے بھی ایک انگریزی اخبار میں مضمون لکھا تھا جس میں شہریت ترمیمی قانون پر چل رہے احتجاجی مظاہرہ کے مدنظر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ جسٹس شاہ نے لکھا تھا کہ ’’شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں ہو رہے مظاہروں میں کچھ بھی حیران کرنے والا نہیں ہے۔ مظاہرین کے ساتھ سرکاری مشینری کا سلوک مایوس کن ہے اور نجی طور پر مجھے عدالت کی آواز تقریباً ’غائب‘ محسوس ہو رہی ہے۔ یا پھر مضبوط حکومت میں عدلیہ کی آواز ’دَب‘ سی گئی ہے۔‘‘