شادی شدہ بیٹی کو صرف ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر ہمدردانہ تقرری سے محروم نہیں کیا جا سکتا: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کے مطابق صرف اس بنیاد پر شادی شدہ بیٹی کو تقرری سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ طلاق یافتہ نہیں ہے۔ عدالت نے بہار حکومت کی متعلقہ پالیسی کو آئین کے آرٹیکل 14 کے منافی قرار دیا

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ کسی شادی شدہ بیٹی کو محض اس کی ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر ہمدردانہ تقرری (کمپیشنٹ اپائنٹمنٹ) کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی سرکاری پالیسی، جس میں صرف طلاق یافتہ یا شوہر کی جانب سے ترک شدہ بیٹیوں کو ہی اس سہولت کا اہل قرار دیا جائے، آئین کے آرٹیکل 14 میں دیے گئے مساوات کے حق کی خلاف ورزی ہے۔
جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس پرسانا بی ورالے پر مشتمل بنچ نے سائرہ خاتون اور ان کی بیٹی کی اپیل منظور کرتے ہوئے پٹنہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیا، جس میں والد کے انتقال کے بعد بیٹی کی ہمدردانہ تقرری کی درخواست مسترد کیے جانے کو درست قرار دیا گیا تھا۔
درخواست گزاروں نے بہار حکومت کی 10 دسمبر 2014 کی پالیسی کو چیلنج کیا تھا، جس کے تحت صرف طلاق یافتہ یا شوہر کی جانب سے ترک شدہ بیٹی کو ہی ہمدردانہ تقرری کے لیے اہل مانا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے یہ دلیل بھی دی تھی کہ متوفی ملازم کے بھائی نے تقرری پر اعتراض کیا ہے۔
تاہم سپریم کورٹ نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ متوفی کے بھائی نے پہلے ہی عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) دے دیا تھا، اس لیے تقرری سے انکار کی یہ بنیاد باقی نہیں رہتی۔
عدالت نے کہا کہ ایسے معاملات میں بیٹے اور بیٹی کے درمیان کسی بھی قسم کا امتیاز آئینی اصولوں کے مطابق قابل قبول نہیں ہے۔ بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ متعدد مواقع پر یہ واضح کر چکی ہے کہ بیٹے اور بیٹی کے درمیان امتیازی سلوک پر مبنی کوئی بھی درجہ بندی بذاتِ خود غیر آئینی ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ صرف طلاق یافتہ یا شوہر کی جانب سے ترک شدہ بیٹیوں تک ہمدردانہ تقرری کی اہلیت محدود کرنا قانون کی نظر میں برقرار نہیں رہ سکتا۔ اس طرح کی درجہ بندی مساوات کے آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ سپریم کورٹ نے بہار حکومت کی اس سوچ کو بھی مسترد کر دیا کہ شادی کے بعد بیٹی اپنے میکے سے تعلق ختم کر لیتی ہے اور مکمل طور پر شوہر کے خاندان کا حصہ بن جاتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ قانون ایسی عمومی مفروضہ آرائی کی اجازت نہیں دیتا۔
فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ اپیل کنندہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ اگرچہ قانونی طور پر اس کی طلاق نہیں ہوئی تھی، لیکن وہ اپنے میکے میں رہ رہی تھی اور اپنی والدہ اور بھائی کی مدد سے زندگی گزار رہی تھی۔ عدالت نے کہا کہ ایسی صورت میں حد سے زیادہ تکنیکی نقطۂ نظر اختیار کرتے ہوئے ہمدردانہ تقرری کے دعوے کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے پٹنہ ہائی کورٹ کا فیصلہ اور تقرری مسترد کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے بہار حکومت کو ہدایت دی کہ وہ 8 ہفتوں کے اندر اپیل کنندہ کے ہمدردانہ تقرری کے دعوے پر تمام حقائق اور قانونی پہلوؤں کی بنیاد پر دوبارہ غور کرے۔
