طلبہ پر پیلیٹ گن استعمال کیے جانے سے متعلق سپریم کورٹ میں اہم سماعت، عرضی دہندہ سے پوچھا گیا تلخ سوال

عدالت نے عرضی دہندہ سے پوچھا کہ ’’اگر کوئی احتجاجی مظاہرہ شرپسند عناصر کے قبضے میں آ کر پرتشدد ہو جائے تو پولیس کو پیلیٹ گن استعمال کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>
i

دہلی میں طلبہ احتجاج کے دوران ہوئے تشدد میں پیلیٹ گن کے مبینہ استعمال کے خلاف جمعرات کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے کہا کہ انتہائی سنگین حالات میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس سے تشدد قابو میں نہ آنے پر پولیس کو گولی چلانے کی اجازت ہوتی ہے۔ عدالت نے عرضی دہندہ سے یہ سوال بھی کیا کہ اگر کوئی احتجاجی مظاہرہ شرپسند عناصر کے قبضے میں آ کر پرتشدد ہو جائے تو پولیس کو پیلیٹ گن استعمال کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے دہلی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ پیلیٹ گن سے مبینہ فائرنگ میں زخمی ہوئے مظاہرین کو مناسب علاج فراہم کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے بھی کہا کہ وہ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کے گولہ-بارود کا ریکارڈ محفوظ رکھے۔ ساتھ ہی عدالت نے مظاہرین کے خلاف پیلیٹ گن کے استعمال پر روک کا مطالبہ کرنے والے عرضی گزار اور سابق آئی پی ایس افسر یشو وردھن آزاد سے چند سوال بھی کیے۔ جنتر منتر اور دیگر مقامات پر احتجاج کر رہے طلبہ پر پیلیٹ گن کے استعمال کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ باتیں کہیں۔


عرضی گزار کے وکیل ورندا گروور نے کہا کہ پیلیٹ گن میں ’کائنیٹک میٹالک پروجیکٹائیل‘ ہوتا ہے۔ جسٹس جوئے مالیہ باغچی نے کہا کہ لیکن پولیس کے قوانین خاص حالات میں اس کے استعمال کی اجازت دیتے ہیں، جب تک کہ آپ خود ان قوانین کو چیلنج نہ کریں۔ گریڈڈ اپروچ (مرحلہ وار طریقے) کے تحت پیلیٹ گن کا استعمال بھی ایک قدم ہے۔ اس پر گروور نے کہا کہ پیلیٹ ربر، پلاسٹک اور میٹل کے ہو سکتے ہیں۔ یہ میٹل کے تھے اور لوگوں کے جسموں سے نکالے گئے تھے۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ ہم کسی خاص معاملے میں چھروں (پیلیٹس) کے استعمال کی جانچ کرنے کے خلاف نہیں ہیں۔ آپ کو ہمیں یہ دکھانا ہوگا کہ کیا پیلیٹس کا استعمال گریڈڈ رسپانس (حالات کے حساب سے) کے طور پر کیا جا سکتا ہے، جبکہ کچھ حالات میں گولیاں بھی چلائی جاتی ہیں۔

سی جے آئی نے کہا کہ پیلیٹس کے مبینہ طور پر بہت زیادہ استعمال کو دیکھتے ہوئے آپ کی مانگ یہ ہونی چاہیے کہ عدالت ان کے استعمال کے لیے کوئی پروٹوکول طے کرے۔ گروور نے کہا کہ جی ہاں صرف میٹل کے پیلیٹس کے لیے۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک قانون تھا کہ گولہ-بارود بچانے کے لیے گولیاں جسم کے دیگر حصے کے بجائے سینے پر چلائی جانی چاہیے۔ اس پر سالیسٹر جنرل نے کہا کہ یہ ضرور نوآبادیاتی دور کا قانون رہا ہوگا۔ جسٹس باغچی نے کہا کہ اس قانون کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس لیے آپ کو ہمیں ایسے قانون دکھانے ہوں گے جہاں پیلیٹس کا استعمال منمانے طریقے سے کیا جا رہا ہے۔


قابل ذکر ہے کہ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن پارٹیوں کا الزام ہے کہ دہلی میں طلبہ پر پیلیٹ گن چلائی گئی۔ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے کہا کہ طلبہ کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا، ان پر پیلیٹ گن چلائی گئی، جن لوگوں نے پیلیٹ گن چلائی وہ وزیر داخلہ امت شاہ کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کے طور پر عوامی مسائل کو اٹھانا میرا حق ہے۔ میرے لیے آج سب سے اہم مسئلہ طلبہ کے ساتھ ہونے والا وحشیانہ سلوک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا حکم دیا جائے۔ طلبہ کے ساتھ جو ہوا اس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کریں اور شائستگی کا مظاہرہ کریں۔