لاوارث کتوں کے معاملے پر سماعت، سرٹیفکیٹ والی تجویز پر سپریم کورٹ کا طنزیہ سوال

سپریم کورٹ نے لاوارث کتوں کے مسئلے پر سماعت کے دوران اینمل برتھ کنٹرول قوانین، عوامی تحفظ اور انتظامیہ کی جوابدہی پر سخت تبصرے کیے اور توازن قائم کرنے پر زور دیا

<div class="paragraphs"><p>کتوں کے کاٹنے کے بڑھتے معاملے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا (فائل تصویر)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ میں منگل کے روز لاوارث کتوں کے مسئلے پر سماعت کے دوران عدالت نے انتظامیہ کی کارکردگی، اینمل برتھ کنٹرول قوانین اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن پر اہم تبصرے کیے۔ سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے علاقے میں لاوارث کتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو پوری رات ایک دوسرے کا پیچھا کرتے اور بھونکتے رہتے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف ان کی نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ بچوں کی پڑھائی بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ افسران سے شکایت کی، تاہم جواب ملا کہ انتظامیہ صرف کتوں کی ویکسینیشن اور نس بندی کر سکتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے قومی انسانی حقوق کمیشن کو خط لکھا، لیکن وہاں سے بھی کوئی عملی کارروائی نہیں ہوئی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اینمل برتھ کنٹرول قوانین ایک محدود دائرے میں نافذ ہوتے ہیں اور ان کے تحت کتوں کو نس بندی یا ویکسینیشن کے بعد دوبارہ وہیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔


سماعت کے دوران ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ لاوارث کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے مؤثر نس بندی نظام ناگزیر ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جے پور اور گوا جیسے مقامات پر یہ نظام کامیابی سے نافذ ہوا ہے، تاہم ملک کے بیشتر شہروں میں نس بندی کا عمل مؤثر طریقے سے انجام نہیں دیا جا رہا۔ ان کے مطابق نس بندی سے کتوں کی جارحانہ فطرت میں کمی آتی ہے، مگر شفافیت اور جوابدہی کے فقدان کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔

پرشانت بھوشن نے تجویز دی کہ ایک ایسا نظام ہونا چاہیے جس کے تحت شہری ان لاوارث کتوں کی نشاندہی کر سکیں جن کی نس بندی نہیں ہوئی۔ یہ معلومات کسی ویب سائٹ پر درج کی جائیں اور ایک مخصوص اتھارٹی فوری کارروائی کی ذمہ دار ہو۔ اس تجویز پر جسٹس سندیپ مہتا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر تو ہمیں کتوں سے خود سرٹیفکیٹ لے کر چلنے کو کیوں نہیں کہہ دینا چاہیے۔ اس پر بھوشن نے خدشہ ظاہر کیا کہ عدالت کے بعض تبصرے غلط پیغام دے سکتے ہیں۔ جسٹس وکرم ناتھ نے واضح کیا کہ عدالت کے تبصرے سنجیدگی کے ساتھ کیے گئے ہیں۔


سماعت کے دوران ایک اینمل رائٹس ایکٹیوسٹ اور سابق مرکزی وزیر کے پوڈکاسٹ پر بھی عدالت نے ناراضگی ظاہر کی اور اسے عدالت کی توہین کے زمرے میں قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ وہ انسانی سلامتی، قوانین کے نفاذ اور جانوروں کے حقوق کے درمیان مناسب توازن پر غور کر رہی ہے۔ سماعت آئندہ بھی جاری رہے گی۔