’کمپیوٹر کی جاسوسی‘ والے مودی حکومت کے فیصلہ پر سپریم کورٹ نے جاری کیا نوٹس

ملک کی 10 جانچ ایجنسیوں کو کسی بھی کمپیوٹر کا ڈاٹا دیکھنے کی اجازت دئیے جانے پر سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ مودی حکومت کو نوٹس کا جواب داخل کرنے کے لیے 6 ہفتہ کا وقت ملا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ملک کی 10 جانچ ایجنسیوں کو کسی بھی کمپیوٹر کا ڈاٹا دیکھنے کی اجازت دینے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے مودی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اس معاملے میں مرکزی حکومت 6 ہفتوں کے اندر اپنا جواب داخل کرے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اس معاملے میں ضرورت پڑنے پر سماعت کی جائے گی۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ کے سامنے وکیل منوہر لال شرما نے اپنی مفاد عامہ عرضی کا تذکرہ کرتے ہوئے اس پر فوری سماعت کی گزارش کی تھی۔ عرضی دہندہ نے کہا کہ ان کی مفاد عامہ عرضی پر فوری سماعت کی جانی چاہیے۔

قابل ذکر ہے کہ مودی حکومت نے 10 جانچ ایجنسیوں اور دہلی پولس کو کسی بھی کمپیوٹر سے کسی بھی جانکاری کو انٹرسیپٹ کرنے، اس کا تجزیہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ گزشتہ مہینے وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ بیورو، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ، سی بی ڈی ٹی، ڈی آر آئی، را سمیت دس ایجنسیوں اور دہلی کے پولس کمشنر کے پاس ملک میں چلنے والے سبھی کمپیوٹر کی مبینہ طور پر نگرانی کرنے کا حق ہوگا۔

حکومت کے اس نوٹیفکیشن پر گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں بھی زوردار ہنگامہ ہوا تھا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے اسے عام آدمی کے حقوق اور رازداری کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اپوزیشن کے الزامات پر حکومت کی جانب سے ایوان میں وزیر مالیات ارون جیٹلی نے صفائی دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہی معاملوں میں یہ قانون نافذ ہوگا جن کا تعلق قومی سیکورٹی سے ہوگا۔ جیٹلی نے کہا تھا کہ حکومت نے اس معاملے میں کوئی نیا قانون نہیں بنایا ہے۔

دوسری طرف کانگریس صدر راہل گاندھی نے اس تعلق سے پی ایم مودی کو تاناشاہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ خود کو کس قدر غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔