شہریت ترمیمی قانون: سپریم کورٹ کا مرکز کو نوٹس، اسٹے آرڈر دینے سے کیا انکار

چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل ڈویژن بنچ نے شہریت (ترمیمی) قانون 2019 کو چیلنج کرنے والی کم از کم 59 درخواستوں پر سماعت کی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف دائر عرضیوں پر بدھ کے روز سماعت کی اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا ہے، تاہم سپریم کورٹ نے اس قانون پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔ اب اس معاملہ کی اگلی سماعت 22 جنوری کو ہوگی۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل ڈویژن بنچ نے شہریت (ترمیمی) قانون 2019 کو چیلنج کرنے والی کم از کم 59 درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے نوٹس کا جواب دینے کے لئے مرکزی حکومت کو جنوری 2020 کے دوسرے ہفتہ تک کا وقت دیا۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش، ترنمول کانگریس کی پارلیمنٹ مہوا مؤترا اور دیگر رہنماؤں، انفرادی اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے پیش ہو رہے وکلاء کی اس درخواست کو مسترد کریا جس میں اس قانون پر روک لگانے کی مانگ کی گئی تھی۔

شہریت ترمیمی قانون کے مطابق، ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی برادری پاکستان کے وہ لوگ جو بنگلہ دیش اور افغانستان میں مذہبی ظلم و ستم کا شکار ہیں اور 31 دسمبر 2014 تک ہندوستان آ چکے ہیں انہیں غیر قانونی مہاجرین نہیں بلکہ ہندوستانی شہری سمجھا جائے گا۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ شہریت دینے کی بنیاد مذہب کو بنایا گیا ہے جو کہ ہندوستانی آئین کے خلاف ہے۔

ادھر، شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور دہلی میں بھی پُر تشدد مظاہروں کا دور جاری ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء کے خلاف پولس کی بربریت کے بعد منگل کے روز سیلم پور میں بھی پرتشدد مظاہرے ہوئے۔ احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا اور متعدد گاڑیاں جل گئیں، پولس نے مظاہرین کے خلاف آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ دوسری طرف، شمال مشرقی ریاستوں کے حالات بھی کشیدہ ہیں، وہاں شہریت ترمیمی بل کی منظوری کے بعد سے ہی لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ حالات کو قابو میں کرنے کے لئے آسام کے 10 اضلاع میں انٹرنیٹ سروس پر پابندی کے ساتھ کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ شمال مشرق میں حالات تاحال معمول پر نہیں ہیں۔