مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر: سپریم کورٹ کا اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس

وکیل نے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے پورے ملک کا ماحول خراب ہونے کا خدشہ ہے، جو اس جمہوریت کی اخلاقیات کو تباہ کر دے گا۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سپریم کورٹ نے ہری دوار کے ’دھرم سنسد‘ پروگرام میں مبینہ طور پر مسلم برادری کے خلاف کی گئی قابل اعتراض اشتعال انگیز تقاریرکے خلاف دائرعرضیوں پر اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیاہے۔ چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس سوریہ کانت اور ہیما کوہلی کی بینچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد اتراکھنڈ حکومت کو نوٹس جاری کر کے اپنا جواب داخل کرنے کو کہا۔

چیف جسٹس رمنا نے کہا ’’ ہم ابھی صرف نوٹس جاری کر رہے ہیں ۔ اگلی سماعت 10 دنوں کے بعد ہوگی‘‘۔


سینئروکیل سبل نےعرضی گزار کی طرف سے دلیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ انتہائی سنگین ہے ۔ اس طرح کی ’دھرم سنسد‘ کا انعقاد بار بار کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اگلا پروگرام 24 جنوری کو علی گڑھ میں ہے، اس لیے اس تاریخ سے پہلے اگلی سنوائی کی جائے ۔

انہوں نے بینچ کے روبرو کہا کہ قابل اعتراض اشتعال انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے اگرجلد اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو اونا، ڈاسنا، کروکشیتر وغیرہ میں بھی اسی طرح کی ’دھرم سنسد‘ ہوں گی ۔ انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگراموں سے پورے ملک کا ماحول خراب ہونے کا خدشہ ہے ، جواس جمہوریت کی اخلاقیات کو تباہ کر دے گا ۔


عدالت عظمیٰ کی بینچ نے سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید، پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق جج اور وکیل انجنا پرکاش، سینئر صحافی قربان علی اور دیگران کی عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے اتراکھنڈ حکومت کو جلد از جلد اپنا جواب داخل کرنے کا حکم جاری کیا ۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔