دفعہ 370: کشمیر میں لگی پابندیوں پر سُپریم کورٹ نے مودی حکومت کو جاری کیا نوٹس

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹنے کے بعد بچوں کو وادی میں غیر قانونی طریقے سے نظر بند رکھنے کو لے کر داخل عرضی پر بھی سپریم کورٹ نے سماعت کی۔ عدالت نے اس عرضی کو آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

جموں و کشمیر سے دفعہ 370 ہٹائے جانے کے بعد لگائی گئی پابندیوں کے خلاف داخل عرضیوں پر پیر کے روز سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے جموں و کشمیر کے اسپتالوں میں انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے مطالبے پر مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر جواب مانگا۔ عرضیوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت حکومت کو ہدایت دے تاکہ ریاست کے سبھی اسپتالوں اور صحت مزاکز میں فوری اثر سے انٹرنیٹ اور لینڈ لائن ٹیلی فون خدمات کی بحالی کی جا سکے۔

دفعہ 370 ہٹنے کے بعد بچوں کو وادی میں غیر قانونی طریقے سے نظر بند رکھنے کو لے کر داخل عرضی پر بھی سپریم کورٹ نے سماعت کی۔ عدالت نے حقوق اطفال کے ماہر شانتا سنہا اور ایناکشی گانگولی کے ذریعہ داخل اس مفاد عامہ عرضی کو آئینی بنچ کے پاس بھیج دیا ہے۔ عرضی میں دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کے مدنظر جموں و کشمیر میں بچوں کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ عدالت منگل سے دفعہ 370 سے متعلق عرضیوں پر سماعت شروع کرے گا۔

سپریم کورٹ نے راجیہ سبھا رکن وائیکو کی اس عرضی پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا، جس میں جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کو اس کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ایم ڈی ایم کے لیڈر عوامی تحفظ قانون (پی ایس اے) کے تحت حراست کے حکم کو چیلنج دے سکتے ہیں۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی کی صدارت والی بنچ نے وائیکو کے وکیل سے کہا کہ عبداللہ عوامی تحفظ قانون کے تحت حراست میں ہیں۔

Published: 30 Sep 2019, 3:10 PM