نیہا سنگھ راٹھور کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت، گرفتاری سے لگائی روک، تفتیش میں تعاون کی ہدایت
سپریم کورٹ نے لوک گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور کو پہلگام حملے سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے معاملے میں گرفتاری سے عبوری تحفظ دیا۔ عدالت نے تفتیش میں تعاون کی ہدایت بھی کی

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ کے روز لوک گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور کو ایک اہم راحت دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر عبوری روک لگا دی ہے۔ یہ حکم ان کے خلاف درج ایف آئی آر کے سلسلے میں دیا گیا، جو مبینہ طور پر وزیر اعظم نریندر مودی اور گزشتہ برس پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے حوالے سے درج کی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ نیہا سنگھ راٹھور کے خلاف کوئی جبری قدم نہیں اٹھایا جائے گا، تاہم انہیں تفتیشی افسر کے سامنے جب بھی طلب کیا جائے، پیش ہونا ہوگا، اور عدم حاضری کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
جسٹس جے کے مہیشوری اور جسٹس اتل ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے نیہا سنگھ راٹھور کی اس عرضی پر نوٹس جاری کیا، جس میں انہوں نے الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس کے ذریعے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد اس معاملے میں آئندہ سماعت تک انہیں گرفتاری سے تحفظ حاصل رہے گا۔
نیہا سنگھ راٹھور کے خلاف 27 اپریل کو لکھنؤ کے حضرت گنج تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی، جس میں ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے ایک خاص مذہبی برادری کو نشانہ بنایا اور ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والی باتیں کہیں۔ ایف آئی آر میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت الزامات شامل کیے گئے، جن میں فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینا، عوامی امن میں خلل ڈالنا اور ملک کی خود مختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنا شامل ہے۔
سپریم کورٹ سے عبوری تحفظ ملنے کے بعد نیہا سنگھ راٹھور نے لکھنؤ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عدالت کا تفصیلی حکم ابھی نہیں پڑھا، لیکن یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ان کی گرفتاری پر روک لگائی گئی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے پر سپریم کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ تفتیشی عمل میں مکمل تعاون کریں گی۔ ان کے مطابق، جب انہیں پہلے نوٹس موصول ہوا تھا تو وہ تفتیشی افسر کے سامنے بیان درج کرانے پہنچی تھیں، تاہم سورج غروب ہو جانے کے باعث اس دن بیان درج نہیں ہو سکا تھا۔
نیہا سنگھ راٹھور نے یہ بھی کہا کہ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد انہوں نے وزیر اعظم سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر صرف سوال پوچھا تھا کہ اس واقعے کی ذمہ داری کون لے گا۔ ان کے مطابق، اسی سوال کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ کئی ماہ پرانا ہے اور وہ ہر سطح پر قانونی عمل میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔