سیاسی پارٹیوں کو امیدواروں کا مجرمانہ ریکارڈ ویب سائٹ پر ڈالنا ہوگا: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سبھی امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ کو ویب سائٹ پر ڈالیں اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی

سپریم کورٹ
سپریم کورٹ
user

قومی آوازبیورو

سیاست میں جرائم پیشہ افراد کے داخلہ کو روکنے کے لئے سپریم کورٹ نے سیاسی پارٹیوں کو ایک اہم حکم دیا ہے۔ عدالت نے سبھی سیاسی پارٹیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کا مجرمانہ ریکارڈ اپنی ویب سائٹ، اپنے فیس بک اکاؤنٹ، ٹوئٹر وغیرہ پر اپ لوڈ کریں۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر سیاسی پارٹیوں نے ایسا نہیں کیا تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

عرضی گزار جن میں بی جے پی کے اشونی اپادھیائے بھی شامل ہیں، انہوں نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ سیاسی پارٹیوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مجرمانہ کردار کی شبیہ والے رہنماؤں کو ٹکٹ نہ دیں اور اگر وہ ایسا کریں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سپریم کورٹ نے اس عرضی پر یہ فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ آخر سیاسی پارٹیوں کی ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ مجرمانہ کردار کے لوگوں کو ہی ووٹ دیتی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر پارٹیاں داغی امیدواروں کو ٹکٹ دیتی ہیں تو ان کو اس کی وجہ بتانی ہوگی۔ سیاسی پارٹیوں کو یہ بتانا ہوگا کہ آخر وہ کسی بے داغ شخص کو ٹکٹ کیوں نہیں دیا۔

واضح رہے عدالت نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ اگر کوئی پارٹی کسی داغی کو ٹکٹ دیتی ہے تو اس کی صلاحیت، حصولیابیوں اور قابلیت کی معلومات 72 گھنٹے کے اندر اندر الیکشن کمیشن کو دینی ہوگی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے سیاست میں جرائم کو ختم کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو ایک ہفتہ میں خاکہ تیار کرنے کاحکم دیا تھا۔

next