’آوارہ مویشیوں کی وجہ سے حادثہ ہو تو معاوضہ دیا جائے‘، سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو دی ہدایت
سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’سبھی ریاستیں جنہوں نے مویشیوں سے متعلق قانون بنایا ہے، انہیں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا چاہئے۔‘‘

سڑکوں پر آوارہ مویشیوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات پر سپریم کورٹ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکز اور ریاستی حکومتوں کو ایسے حادثات میں معاوضے کی ادائیگی کے لیے میکنزم تیار کرنے کی بھی ہدایت کی۔ جسٹس سنجے کرول اور این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے کئی اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’ان مویشیوں کے مالکوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنائیں کہ مویشی ہر روز دن ختم ہونے پر اپنے رہنے والے یا بتائے گئے مقام پر واپس لوٹ جائے۔‘‘
بنچ نے کہا کہ ’’سبھی ریاستیں جنہوں نے مویشیوں سے متعلق قانون بنایا ہے، انہیں اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا چاہئے۔ پیدل چلنے والوں یا ڈرائیوروں دونوں زمروں میں مویشیوں کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں معاوضے کی ادائیگی کا طریقہ کار تیار کرنے کے لیے ضروری ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ یا پھر مجاز اتھارٹی کی جانب سے مناسب سمجھے جانے والے قواعد شامل کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ سپریم کورٹ نے سبھی مویشیوں کی ٹیگنگ لازمی قرار دیے جانے کا حکم دیا۔ اس سے مویشیوں کی نگرانی کرنے، مویشیوں کی صحت کی دیکھ بھال کو یقینی بنانا، ویٹرنری چیک اپ اور ویکسینیشن سے رابطہ قائم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
یہ ہدایت پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے ایک حکم کو چیلنج دینے والی ایک خاتون کے ذریعہ دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے آئی۔ ہائی کورٹ نے خاتون کو ملنے والا 29.32 لاکھ روپے کا معاوضہ منسوخ کر دیا تھا۔ خاتون کے شوہر کو سڑک پر چلنے کے وقت ایک آوارہ سانڈ نے ٹکر مار دی تھی اور سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی۔ شوہر کی موت کے بعد خاتون نے مناسب معاوضے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی۔ سنگل جج بنچ نے قرار دیا کہ متوفی کی آمدنی، عمر اور دیگر متعلقہ عوامل کی بنیاد پر موٹر وہیکل ایکٹ 1980 کے تحت معاوضے کے گرانٹس کو کنٹرول کرنے والے اصولوں کو نافذ کرکے معاوضے کا تخمینہ لگایا، اور معاوضہ دیے جانے کا حکم جاری کیا۔ حالانکہ ڈویژن بنچ نے سنگل جج بنچ کے حکم کو ایک طرف رکھ دیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
