تریپورہ میں بلدیاتی انتخابات پر کوئی روک نہیں : سپریم کورٹ

سسپریم کورٹ نے جمہوریت میں انتخابات کو ملتوی کرنے کی کارروائی کو ’سخت‘ اور ’آخری حربہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غلط رویات شروع ہونے کا خطرہ ہے۔

فائل تصویر آئی اے این ایس
فائل تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سپریم کورٹ نے انتخابات پر روک کی کاروائی کو’سخت ‘اور’آخری حربہ ‘ قرار دیتے ہوئے مقامی بلدیاتی انتخاب کوملتوی کرنے کے مطالبے پرغور کرنے سے انکار کر دیا ۔تریپورہ میں 25 نومبر کو بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں، لیکن ترنمول کانگریس نے ریاست میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا الزام لگاتے ہوئےانتخابات پر روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس وکرم ناتھ کی بینچ نے جمہوریت میں انتخابات کو ملتوی کرنے کی کارروائی کو ’سخت‘ اور ’آخری حربہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غلط رویات شروع ہونے کا خطرہ ہے۔

سپریم کورٹ نے تریپورہ حکومت کو حکم دیا کہ وہ پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے ۔ تریپورہ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) کو بلدیاتی انتخابات کو پرامن اور غیرجانبدارانہ طریقے سے منعقد کرانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ۔ انہیں بدھ کے روز ریاستی الیکشن کمشنر کے ساتھ بیٹھ کر مرکزی نیم فوجی دستوں کی مناسب تعداد کی تعیناتی کے لیے ضروری جائزہ لینے کے لیے کہا گیا ہے۔


ترنمول کانگریس کی توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے سینئر وکیل جئے دیپ گپتا اور گوپال شنکر نرائنن نے ریاست میں حالیہ پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات کو منسوخ کرنے کی مانگ کی تھی ۔ ترنمول کا الزام ہے کہ انتخابات قریب ہیں، لیکن ریاست میں امن و امان کی صورتحال بگڑ رہی ہے ۔ حکومت کو عدالتی احکامات کی بھی پرواہ نہیں۔

تریپورہ حکومت کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے بینچ کو انتخابات کے پیش نظر کئے جانے والے سیکورٹی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔